قرآن کریم » اردو » سورہ قیامہ

اردو

سورہ قیامہ - آیات کی تعداد 40
لَا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ ( 1 ) قیامہ - الآية 1
ہم کو روز قیامت کی قسم
وَلَا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ ( 2 ) قیامہ - الآية 2
اور نفس لوامہ کی (کہ سب لوگ اٹھا کر) کھڑے کئے جائیں گے
أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَلَّن نَّجْمَعَ عِظَامَهُ ( 3 ) قیامہ - الآية 3
کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی (بکھری ہوئی) ہڈیاں اکٹھی نہیں کریں گے؟
بَلَىٰ قَادِرِينَ عَلَىٰ أَن نُّسَوِّيَ بَنَانَهُ ( 4 ) قیامہ - الآية 4
ضرور کریں گے (اور) ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کی پور پور درست کردیں
بَلْ يُرِيدُ الْإِنسَانُ لِيَفْجُرَ أَمَامَهُ ( 5 ) قیامہ - الآية 5
مگر انسان چاہتا ہے کہ آگے کو خود سری کرتا جائے
يَسْأَلُ أَيَّانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ ( 6 ) قیامہ - الآية 6
پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب ہوگا؟
فَإِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ ( 7 ) قیامہ - الآية 7
جب آنکھیں چندھیا جائیں
وَخَسَفَ الْقَمَرُ ( 8 ) قیامہ - الآية 8
اور چاند گہنا جائے
وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ ( 9 ) قیامہ - الآية 9
اور سورج اور چاند جمع کردیئے جائیں
يَقُولُ الْإِنسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ ( 10 ) قیامہ - الآية 10
اس دن انسان کہے گا کہ (اب) کہاں بھاگ جاؤں؟
كَلَّا لَا وَزَرَ ( 11 ) قیامہ - الآية 11
بےشک کہیں پناہ نہیں
إِلَىٰ رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ ( 12 ) قیامہ - الآية 12
اس روز پروردگار ہی کے پاس ٹھکانا ہے
يُنَبَّأُ الْإِنسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ ( 13 ) قیامہ - الآية 13
اس دن انسان کو جو (عمل) اس نے آگے بھیجے اور پیچھے چھوڑے ہوں گے سب بتا دیئے جائیں گے
بَلِ الْإِنسَانُ عَلَىٰ نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ ( 14 ) قیامہ - الآية 14
بلکہ انسان آپ اپنا گواہ ہے
وَلَوْ أَلْقَىٰ مَعَاذِيرَهُ ( 15 ) قیامہ - الآية 15
اگرچہ عذر ومعذرت کرتا رہے
لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ ( 16 ) قیامہ - الآية 16
اور (اے محمدﷺ) وحی کے پڑھنے کے لئے اپنی زبان نہ چلایا کرو کہ اس کو جلد یاد کرلو
إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ ( 17 ) قیامہ - الآية 17
اس کا جمع کرنا اور پڑھانا ہمارے ذمے ہے
فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ ( 18 ) قیامہ - الآية 18
جب ہم وحی پڑھا کریں تو تم (اس کو سنا کرو اور) پھر اسی طرح پڑھا کرو
ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ ( 19 ) قیامہ - الآية 19
پھر اس (کے معانی) کا بیان بھی ہمارے ذمے ہے
كَلَّا بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ ( 20 ) قیامہ - الآية 20
مگر (لوگو) تم دنیا کو دوست رکھتے ہو
وَتَذَرُونَ الْآخِرَةَ ( 21 ) قیامہ - الآية 21
اور آخرت کو ترک کئے دیتے ہو
وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ ( 22 ) قیامہ - الآية 22
اس روز بہت سے منہ رونق دار ہوں گے
إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ ( 23 ) قیامہ - الآية 23
اور) اپنے پروردگار کے محو دیدار ہوں گے
وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ بَاسِرَةٌ ( 24 ) قیامہ - الآية 24
اور بہت سے منہ اس دن اداس ہوں گے
تَظُنُّ أَن يُفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌ ( 25 ) قیامہ - الآية 25
خیال کریں گے کہ ان پر مصیبت واقع ہونے کو ہے
كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ ( 26 ) قیامہ - الآية 26
دیکھو جب جان گلے تک پہنچ جائے
وَقِيلَ مَنْ ۜ رَاقٍ ( 27 ) قیامہ - الآية 27
اور لوگ کہنے لگیں (اس وقت) کون جھاڑ پھونک کرنے والا ہے
وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَاقُ ( 28 ) قیامہ - الآية 28
اور اس (جان بلب) نے سمجھا کہ اب سب سے جدائی ہے
وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ ( 29 ) قیامہ - الآية 29
اور پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جائے
إِلَىٰ رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمَسَاقُ ( 30 ) قیامہ - الآية 30
اس دن تجھ کو اپنے پروردگار کی طرف چلنا ہے
فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّىٰ ( 31 ) قیامہ - الآية 31
تو اس (ناعاقبت) اندیش نے نہ تو (کلام خدا) کی تصدیق کی نہ نماز پڑھی
وَلَٰكِن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ ( 32 ) قیامہ - الآية 32
بلکہ جھٹلایا اور منہ پھیر لیا
ثُمَّ ذَهَبَ إِلَىٰ أَهْلِهِ يَتَمَطَّىٰ ( 33 ) قیامہ - الآية 33
پھر اپنے گھر والوں کے پاس اکڑتا ہوا چل دیا
أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ ( 34 ) قیامہ - الآية 34
افسوس ہے تجھ پر پھر افسوس ہے
ثُمَّ أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ ( 35 ) قیامہ - الآية 35
پھر افسوس ہے تجھ پر پھر افسوس ہے
أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى ( 36 ) قیامہ - الآية 36
کیا انسان خیال کرتا ہے کہ یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا؟
أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِيٍّ يُمْنَىٰ ( 37 ) قیامہ - الآية 37
کیا وہ منی کا جو رحم میں ڈالی جاتی ہے ایک قطرہ نہ تھا؟
ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّىٰ ( 38 ) قیامہ - الآية 38
پھر لوتھڑا ہوا پھر (خدا نے) اس کو بنایا پھر (اس کے اعضا کو) درست کیا
فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ ( 39 ) قیامہ - الآية 39
پھر اس کی دو قسمیں بنائیں (ایک) مرد اور (ایک) عورت
أَلَيْسَ ذَٰلِكَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَىٰ ( 40 ) قیامہ - الآية 40
کیا اس خالق کو اس بات پر قدرت نہیں کہ مردوں کو جلا اُٹھائے؟

کتب

  • عام مسلمانوں کے لئے ضروری اسباق-

    تاليف : عبد العزيز بن عبد الله بن باز

    نظر ثانی کرنے والا : مشتاق احمد كريمي

    ترجمہ کرنے والا : محمد شريف بن شهاب الدين

    اصدارات : دفتر تعاون برائے دعوت وتوعية الجاليات ربوہ، رياض

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/67

    التحميل :عام مسلمانوں کے لئے ضروری اسباق

  • مرزائيت اور اسلاماس کتاب کے اکثرمضمون میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ مرزائیت کا اسلام اورمسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں اورمرزا غلام احمد قادیا نی یہ مسلمانوں کا دشمن اورانگریزی سامراج کا ایجنٹ تھا ,نیز اسکے کفریہ عقیدے اوردیگرہرزہ سرائیوں کی نقاب کشائی کی گئی ہے.

    تاليف : احسان الهي ظهير

    نظر ثانی کرنے والا : عطاء الرحمن ضياء الله

    اصدارات : ادارہ ترجمان السنۃ لا ہو رپاکستان

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/191301

    التحميل :مرزائيت اور اسلام

  • صحیح بخاری شریف-

    تاليف : محمد بن اسماعیل البخاری

    ترجمہ کرنے والا : محمد داود راز

    اصدارات : جمعيت اهل حديث بنگلور-هند

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/17

    التحميل :صحیح بخاری شریفصحیح بخاری شریف

  • بائبل اور قرآن جدید سائنس کی روشنی میںمشہور عالمی مقرر ڈاکٹر ذاکر نائیک اور عیسائی ڈاکٹر ولیم کیمبل کے درمیان ہونے والا ایک عظیم الشان مناظرہ جس کا موضوع تھا بائبل اور قرآن جدید سائنس کی روشنی میں-جس میں ڈاکٹر ذاکر نائیک نے قرآنی اور سائنسی دلائل کے ساتھ قرآن کی اہمیت،حجیت اور موجودہ دور میں لوگوں کی راہنمائی کرنے والی کتاب ثابت کیا ہے اور بائبل کی تحریفات اور جز وقتی کتاب ہونے کو دلائل سے ثابت کیا ہے-نیز قرآن پر کئے جانے والے سائنس کی بنیاد پر اعتراضات کے بھرپور اور شافی جوابات دئے ہیں۔تقابل ادیان کے موضوع سے شغف رکھنے والے احباب کیلئے بہترین دعوتی ہتھیار ہے۔

    تاليف : ذاكر نايك

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/193250

    التحميل :بائبل اور قرآن جدید سائنس کی روشنی میں

  • رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے الوَداعى کلمات (وصیتیں، نصیحتیں، عبرتیں)زیر نظر کتابچہ میں اختصار کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش،آپ کی ذمہ داری،جہاد و اجتہاد،بہترین اعمال،عرفات،منیٰ اور مدینہ میں اپنی امت کے لیے الوداعی باتیں،زندوں اور فوت شدگان کے لیے الوداعی گفتگو اور ان جگہوں پر آپ کی وصیتوں کا ذکر،آپ کے مرض کی ابتداء،سختی اور موت کے وقت اپنی امت کے لیے وصیتیں اور الوداعی باتیں اور آپ کا رفیق اعلیٰ کو پسند کرنا،اس کی وضاحت کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہادت کی موت نصیب ہوئی،ان کی موت کی وجہ سے مسلمانوں کی پریشانی ،آپ کی میراث،آپ کے حقوق آپ کی امت پر ذکر کیے گئے ہیں۔ہر بحث کے آخر میں ان سے حاصل شدہ اسباق ،فوائد،عبرتوں اور نصیحتوں کا تذکرہ بھی کر دیا گیا ہے۔ نہایت ہی مفید کتاب ہے ضرور مطالعہ کریں.

    تاليف : سعيد بن علي بن وهف قحطاني

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی - محمد اختر صدیق

    ترجمہ کرنے والا : عبد الحميد حمزه

    اصدارات : مكتبہ اسلامیہ لاہور- پاکستان http://www.kitabosunnat.com

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/373506

    التحميل :رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے الوَداعى کلمات (وصیتیں، نصیحتیں، عبرتیں)

اختر اللغة

اختر سورہ

کتب

اختر تفسير

المشاركه

Bookmark and Share