قرآن کریم » اردو » سورہ مزمل

اردو

سورہ مزمل - آیات کی تعداد 20
يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ ( 1 ) مزمل - الآية 1
اے (محمدﷺ) جو کپڑے میں لپٹ رہے ہو
قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا ( 2 ) مزمل - الآية 2
رات کو قیام کیا کرو مگر تھوڑی سی رات
نِّصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا ( 3 ) مزمل - الآية 3
(قیام) آدھی رات (کیا کرو)
أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا ( 4 ) مزمل - الآية 4
یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو
إِنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيلًا ( 5 ) مزمل - الآية 5
ہم عنقریب تم پر ایک بھاری فرمان نازل کریں گے
إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئًا وَأَقْوَمُ قِيلًا ( 6 ) مزمل - الآية 6
کچھ شک نہیں کہ رات کا اٹھنا (نفس بہیمی) کو سخت پامال کرتا ہے اور اس وقت ذکر بھی خوب درست ہوتا ہے
إِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيلًا ( 7 ) مزمل - الآية 7
دن کے وقت تو تمہیں اور بہت سے شغل ہوتے ہیں
وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا ( 8 ) مزمل - الآية 8
تو اپنے پروردگار کے نام کا ذکر کرو اور ہر طرف سے بےتعلق ہو کر اسی کی طرف متوجہ ہوجاؤ
رَّبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا ( 9 ) مزمل - الآية 9
مشرق اور مغرب کا مالک (ہے اور) اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو اسی کو اپنا کارساز بناؤ
وَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَاهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِيلًا ( 10 ) مزمل - الآية 10
اور جو جو (دل آزار) باتیں یہ لوگ کہتے ہیں ان کو سہتے رہو اور اچھے طریق سے ان سے کنارہ کش رہو
وَذَرْنِي وَالْمُكَذِّبِينَ أُولِي النَّعْمَةِ وَمَهِّلْهُمْ قَلِيلًا ( 11 ) مزمل - الآية 11
اور مجھے ان جھٹلانے والوں سے جو دولتمند ہیں سمجھ لینے دو اور ان کو تھوڑی سی مہلت دے دو
إِنَّ لَدَيْنَا أَنكَالًا وَجَحِيمًا ( 12 ) مزمل - الآية 12
کچھ شک نہیں کہ ہمارے پاس بیڑیاں ہیں اور بھڑکتی ہوئی آگ ہے
وَطَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَعَذَابًا أَلِيمًا ( 13 ) مزمل - الآية 13
اور گلوگیر کھانا ہے اور درد دینے والا عذاب (بھی) ہے
يَوْمَ تَرْجُفُ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيبًا مَّهِيلًا ( 14 ) مزمل - الآية 14
جس دن زمین اور پہاڑ کانپنے لگیں اور پہاڑ ایسے بھر بھرے (گویا) ریت کے ٹیلے ہوجائیں
إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَىٰ فِرْعَوْنَ رَسُولًا ( 15 ) مزمل - الآية 15
(اے اہل مکہ) جس طرح ہم نے فرعون کے پاس (موسیٰ کو) پیغمبر (بنا کر) بھیجا تھا (اسی طرح) تمہارے پاس بھی (محمدﷺ) رسول بھیجے ہیں جو تمہارے مقابلے میں گواہ ہوں گے
فَعَصَىٰ فِرْعَوْنُ الرَّسُولَ فَأَخَذْنَاهُ أَخْذًا وَبِيلًا ( 16 ) مزمل - الآية 16
سو فرعون نے (ہمارے) پیغمبر کا کہا نہ مانا تو ہم نے اس کو بڑے وبال میں پکڑ لیا
فَكَيْفَ تَتَّقُونَ إِن كَفَرْتُمْ يَوْمًا يَجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِيبًا ( 17 ) مزمل - الآية 17
اگر تم بھی (ان پیغمبروں کو) نہ مانو گے تو اس دن سے کیونکر بچو گے جو بچّوں کو بوڑھا کر دے گا
السَّمَاءُ مُنفَطِرٌ بِهِ ۚ كَانَ وَعْدُهُ مَفْعُولًا ( 18 ) مزمل - الآية 18
(اور) جس سے آسمان پھٹ جائے گا۔ یہ اس کا وعدہ (پورا) ہو کر رہے گا
إِنَّ هَٰذِهِ تَذْكِرَةٌ ۖ فَمَن شَاءَ اتَّخَذَ إِلَىٰ رَبِّهِ سَبِيلًا ( 19 ) مزمل - الآية 19
یہ (قرآن) تو نصیحت ہے۔ سو جو چاہے اپنے پروردگار تک (پہنچنے کا) رستہ اختیار کرلے
إِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ أَنَّكَ تَقُومُ أَدْنَىٰ مِن ثُلُثَيِ اللَّيْلِ وَنِصْفَهُ وَثُلُثَهُ وَطَائِفَةٌ مِّنَ الَّذِينَ مَعَكَ ۚ وَاللَّهُ يُقَدِّرُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ ۚ عَلِمَ أَن لَّن تُحْصُوهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ ۖ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ ۚ عَلِمَ أَن سَيَكُونُ مِنكُم مَّرْضَىٰ ۙ وَآخَرُونَ يَضْرِبُونَ فِي الْأَرْضِ يَبْتَغُونَ مِن فَضْلِ اللَّهِ ۙ وَآخَرُونَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۖ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ ۚ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَقْرِضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا ۚ وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُم مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِندَ اللَّهِ هُوَ خَيْرًا وَأَعْظَمَ أَجْرًا ۚ وَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ( 20 ) مزمل - الآية 20
تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے کہ تم اور تمہارے ساتھ کے لوگ (کبھی) دو تہائی رات کے قریب اور (کبھی) آدھی رات اور (کبھی) تہائی رات قیام کیا کرتے ہو۔ اور خدا تو رات اور دن کا اندازہ رکھتا ہے۔ اس نے معلوم کیا کہ تم اس کو نباہ نہ سکو گے تو اس نے تم پر مہربانی کی۔ پس جتنا آسانی سے ہوسکے (اتنا) قرآن پڑھ لیا کرو۔ اس نے جانا کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوتے ہیں اور بعض خدا کے فضل (یعنی معاش) کی تلاش میں ملک میں سفر کرتے ہیں اور بعض خدا کی راہ میں لڑتے ہیں۔ تو جتنا آسانی سے ہوسکے اتنا پڑھ لیا کرو۔ اور نماز پڑھتے رہو اور زکوٰة ادا کرتے رہو اور خدا کو نیک (اور خلوص نیت سے) قرض دیتے رہو۔ اور جو عمل نیک تم اپنے لئے آگے بھیجو گے اس کو خدا کے ہاں بہتر اور صلے میں بزرگ تر پاؤ گے۔ اور خدا سے بخشش مانگتے رہو۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

کتب

  • ایک دن رسول صلى اللہ علیہ وسلم کے گھر میںموجودہ زمانے میں نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کے تعلق سے اکثر لوگ غلو کے شکار ہیں، کچھ تو ایسے ہیں کہ جنہوں نے رسول صلى اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اسقدر غلو کیا کہ-اللہ کی پناہ- شرک کے درجے تک پہنچ گئے ، جیسے کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کو پکارنا اور آپ صلى اللہ علیہ وسلم سے مدد طلب کرنا ، اور کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو آپ صلى اللہ علیہ وسلم کی سنت اور طریقہ کار سے بالکل ہی غافل ہیں تو انہوں نے آپ صلى اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کو زندگی کا مشعلِ راہ بنایا اور نہ ہی اسے رہنما سمجھا-آپ کی سیرت طیبہ اور لمحات زندگی کو آسان شکل میں لوگوں کو پیش کرنے کیلئے چند اوراق پر مشتمل یہ کتابچہ ہے جوآپ صلى اللہ علیہ وسلم کی مکمل سیرتِ طیبہ کو سمیٹ تو نہیں سکتا مگر یہ چند جھلکیاں ہیں جو آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے اوصاف کریمہ سے ماخوذ ہیں –نہایت ہی عمدہ کتاب ہے ضرور استفادہ حاصل کریں.

    تاليف : عبد الملک القاسم

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    اصدارات : دارالبلاغ پبلشر اینڈ ڈسٹری بیوٹر,بلاری,کرناٹک, انڈیا

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/368361

    التحميل :ایک دن رسول صلى اللہ علیہ وسلم کے گھر میں

  • رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے الوَداعى کلمات (وصیتیں، نصیحتیں، عبرتیں)زیر نظر کتابچہ میں اختصار کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش،آپ کی ذمہ داری،جہاد و اجتہاد،بہترین اعمال،عرفات،منیٰ اور مدینہ میں اپنی امت کے لیے الوداعی باتیں،زندوں اور فوت شدگان کے لیے الوداعی گفتگو اور ان جگہوں پر آپ کی وصیتوں کا ذکر،آپ کے مرض کی ابتداء،سختی اور موت کے وقت اپنی امت کے لیے وصیتیں اور الوداعی باتیں اور آپ کا رفیق اعلیٰ کو پسند کرنا،اس کی وضاحت کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہادت کی موت نصیب ہوئی،ان کی موت کی وجہ سے مسلمانوں کی پریشانی ،آپ کی میراث،آپ کے حقوق آپ کی امت پر ذکر کیے گئے ہیں۔ہر بحث کے آخر میں ان سے حاصل شدہ اسباق ،فوائد،عبرتوں اور نصیحتوں کا تذکرہ بھی کر دیا گیا ہے۔ نہایت ہی مفید کتاب ہے ضرور مطالعہ کریں.

    تاليف : سعيد بن علي بن وهف قحطاني

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی - محمد اختر صدیق

    ترجمہ کرنے والا : عبد الحميد حمزه

    اصدارات : مكتبہ اسلامیہ لاہور- پاکستان http://www.kitabosunnat.com

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/373506

    التحميل :رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے الوَداعى کلمات (وصیتیں، نصیحتیں، عبرتیں)

  • کلمہ گو مشرکاس کتاب میں شرک کی مذمت اور دعوت توحید کو قرآن وسنت کے محکم دلائل سے واضح کیا گیا ہے اور بالتفصیل یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ مشرکین عرب اللہ کے علاوہ انبیاء, اولیاء, شہداء, جن وملائکہ , شجروحجر وغیرہ کو مافوق الاسباب قوتوں کا مالک ومختار سمجھتے تھے اور اللہ کو ماننے کے ساتھ ان ہستیوں کو بھی پکارتے تھے.اللہ نے ان کے اس عقیدے کو شرک قراریا اور انہیں مشرک کہا.اور امت مسلمہ میں سے جوبھی ان جیسا عقیدہ رکھے گا اور ان کی پیروی کرے گا وہ کلمہ پڑھنے کے باوجود مشرک کہلائے گا اور اس کے تمام اعمال اکارت ہوجائیں گے. اسی طرح اس کتاب میں قبر پرستی اور پختہ قبور کے متعلق احادیث صحیحہ اور ائمہ محدثین, فقہ حنفی, مالکی, شافعی, حنبلی اور فقہ جعفریہ کی معتبر کتب سے بادلائل ثابت کیا گیا ہے کہ پختہ قبریں بنانے کا اسلام میں کو ئی تصور موجود نہیں. علاوہ ازیں کتاب کے آغاز میں مولانا عبد الرزاق ملیح آبادی رحمہ اللہ کا ایک مضمون "مسلمان مشرک" بھی افادہ عام کے لیے ملحق کردیا گیا ہے.

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/179505

    التحميل :کلمہ گو مشرک

  • سانحہ کربلا مع کربلا کی کہانی حضرت ابو جعفر محمد باقر کی زبانیزیرنظر کتاب سانحہ کربلا سے متعلق ڈاکٹراسرار رحمہ اللہ کے عظیم خطاب پرمشتمل ہے جسکو شیخ جمیل الرحمن حفظہ اللہ نےتحریری شکل میں ترتیب دیا ہے , اورآخرمیں "کربلا کی کہانی حضرت ابوجعفرمحمد باقرکی زبانی " نامی کتابچہ کو شامل کردیا گیا ہے جسکی ترجمانی مشہورعالم دین حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ نے کی ہے. نہایت ہی مفید رسالہ ہے ضرور استفادہ حاصل کریں.

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/328953

    التحميل :سانحہ کربلا مع کربلا کی کہانی حضرت ابو جعفر محمد باقر کی زبانی

  • سنت کی روشنی اور بدعت کے اندھیرے کتاب وسنت کے آئینہ میںسنت کے نور اور بدعت کی تاریکیوں کے سلسلہ میں یہ ایک مختصر رسالہ ہے جسمیں سنت کے مفہوم اور اہل سنت کے نام کی وضاحت کی گئی ہے, اور یہ کہ سنت ہی مطلق نعمت ہے , نیز سنت اور اہل سنت کے مقام اور ان کی علامتوں کی وضاحت کی گئی ہے. اور بدعت اور اہل بدعت کے مقام , بدعت کے مفہوم , قبولیت عمل کی شرطیں , دین میں بدعت کی مذمت , بدعات کے اسباب, بدعت کے اقسام واحکام , قبروں وغیرہ کے پاس بدعات کی قسمیں , عصرحاضر کی مروجہ بدعات, بدعتى کے توبہ کا حکم اور بدعات کے آثارو نقصانات کا تذکرہ کیا گیا ہے . نہایت ہی مفید کتاب ہے ضرور مطالعہ کریں-

    تاليف : سعيد بن علي بن وهف قحطاني

    نظر ثانی کرنے والا : ابو المکرم عبد الجلیل

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/321079

    التحميل :سنت کی روشنی اور بدعت کے اندھیرے کتاب وسنت کے آئینہ میں

اختر اللغة

اختر سورہ

کتب

اختر تفسير

المشاركه

Bookmark and Share