اردو
سورہ حاقہ - آیات کی تعداد 52
كَذَّبَتْ ثَمُودُ وَعَادٌ بِالْقَارِعَةِ ( 4 )
کھڑکھڑانے والی (جس) کو ثمود اور عاد (دونوں) نے جھٹلایا
وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ ( 6 )
رہے عاد تو ان کا نہایت تیز آندھی سے ستیاناس کردیا گیا
سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَىٰ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ ( 7 )
خدا نے اس کو سات رات اور آٹھ دن لگاتار ان پر چلائے رکھا تو (اے مخاطب) تو لوگوں کو اس میں (اس طرح) ڈھئے (اور مرے) پڑے دیکھے جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے
وَجَاءَ فِرْعَوْنُ وَمَن قَبْلَهُ وَالْمُؤْتَفِكَاتُ بِالْخَاطِئَةِ ( 9 )
اور فرعون اور جو لوگ اس سے پہلے تھے اور وہ جو الٹی بستیوں میں رہتے تھے سب گناہ کے کام کرتے تھے
فَعَصَوْا رَسُولَ رَبِّهِمْ فَأَخَذَهُمْ أَخْذَةً رَّابِيَةً ( 10 )
انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغمبر کی نافرمانی کی تو خدا نے بھی ان کو بڑا سخت پکڑا
إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ ( 11 )
جب پانی طغیانی پر آیا تو ہم نے تم (لوگوں )کو کشتی میں سوار کرلیا
لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ ( 12 )
تاکہ اس کو تمہارے لئے یادگار بنائیں اور یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں
وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً ( 14 )
اور زمین اور پہاڑ دونوں اٹھا لئے جائیں گے۔ پھر ایک بارگی توڑ پھوڑ کر برابر کردیئے جائیں گے
وَانشَقَّتِ السَّمَاءُ فَهِيَ يَوْمَئِذٍ وَاهِيَةٌ ( 16 )
اور آسمان پھٹ جائے گا تو وہ اس دن کمزور ہوگا
وَالْمَلَكُ عَلَىٰ أَرْجَائِهَا ۚ وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَمَانِيَةٌ ( 17 )
اور فرشتے اس کے کناروں پر (اُتر آئیں گے) اور تمہارے پروردگار کے عرش کو اس روز آٹھ فرشتے اپنے سروں پر اُٹھائے ہوں گے
يَوْمَئِذٍ تُعْرَضُونَ لَا تَخْفَىٰ مِنكُمْ خَافِيَةٌ ( 18 )
اس روز تم (سب لوگوں کے سامنے) پیش کئے جاؤ گے اور تمہاری کوئی پوشیدہ بات چھپی نہ رہے گی
فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَيَقُولُ هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ ( 19 )
تو جس کا (اعمال) نامہ اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ (دوسروں سے) کہے گا کہ لیجیئے میرا نامہ (اعمال) پڑھیئے
إِنِّي ظَنَنتُ أَنِّي مُلَاقٍ حِسَابِيَهْ ( 20 )
مجھے یقین تھا کہ مجھ کو میرا حساب (کتاب) ضرور ملے گا
كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ ( 24 )
جو (عمل) تم ایام گزشتہ میں آگے بھیج چکے ہو اس کے صلے میں مزے سے کھاؤ اور پیو
وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِشِمَالِهِ فَيَقُولُ يَا لَيْتَنِي لَمْ أُوتَ كِتَابِيَهْ ( 25 )
اور جس کا نامہ (اعمال) اس کے بائیں ہاتھ میں یاد جائے گا وہ کہے گا اے کاش مجھ کو میرا (اعمال) نامہ نہ دیا جاتا
ثُمَّ فِي سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُونَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوهُ ( 32 )
پھر زنجیر سے جس کی ناپ ستر گز ہے جکڑ دو
وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ ۚ قَلِيلًا مَّا تُؤْمِنُونَ ( 41 )
اور یہ کسی شاعر کا کلام نہیں۔ مگر تم لوگ بہت ہی کم ایمان لاتے ہو
وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ ۚ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ ( 42 )
اور نہ کسی کاہن کے مزخرفات ہیں۔ لیکن تم لوگ بہت ہی کم فکر کرتے ہو
وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ ( 44 )
اگر یہ پیغمبر ہماری نسبت کوئی بات جھوٹ بنا لاتے
فَمَا مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ ( 47 )
پھر تم میں سے کوئی (ہمیں) اس سے روکنے والا نہ ہوتا
کتب
- زبان کی حفاظتزبان اللہ تعالى کی بڑی عظیم نعمت ہے ’اسکے ذریعے انسان چاہے تو اپنی آخرت کیلئے نیکیاں بھی جمع کرسکتا ہے’ اور چاہے تو اپنی آخرت برباد کرسکتا ہے’ اگرکوئی شخص زبان کو صحیح استعمال کرے’ اور کوئی اچھی بات کہے تو اس بات کی وجہ سے اللہ تعالى نہ جانے کتنے درجات بلند کرتا ہے- جب ایک انسان کافر سے مسلمان ہوتا ہے تو وہ اسی زبان کی بدولت ہوتا ہے’ زبان سے کلمہ شہادت پڑھتا ہے’ دیکھیں صرف ایک کلمے سے پہلے جہنمی تھا اب جنتی بن گیا’ اسکے برعکس اگر اس زبان کا ناجائز استعمال ہو’ توپھریہی زبان اسنان کو جہنم میں کھینچ کرلے جاتی ہے’ اسی وجہ سے کثرت کلام سے منع کیا گیا ہے.کتابچہ مذکور میں اسی زبان کی حفاظت کی تاکید کی گئی ہے.
نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی
- افواہوں کی شرعى حیثیتزیر نظر رسالہ میں مولف نےحسب ونسب یعنى عزت وآبرو کے اسلامی اور انسانی بنیادی مصلحت یا حق کے تحفظ پر ڈاکہ ڈالنے والى افواہوں کی جنگ کے خلاف تدابیر کو اپنا موضوع بنایا ہے , جنکو اختیار کرکے عزت وآبرو کی حفاظت کا کام بحسن وخوبى انجام دیا جا سکتا ہے.
تاليف : سعد بن ناصر الشثري
نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی
اصدارات : دفتر تعاون برائے دعوت وتوعية الجاليات ربوہ، رياض
- صحبت رسول صلى اللہ علیہ وسلمزیر نظر رسالہ میں کتاب وسنت میں وارد صحابہ کرام کے مقام ومرتبہ کو اُجاگر کیا گیا ہے’ اور رسول صلى اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صحابہ کرام کے مابین رونما ہونے والے فتنوں کے بارے میں میں اہل سنت والجماعت کے موقف کو بیان کیا گیا ہے ’ نیز ان کے تئیں ہم پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے.
تاليف : صالح بن عبد اللہ درویش
اصدارات : مركز البحوث في مبرة الآل والأصحاب
- ایک دن رسول صلى اللہ علیہ وسلم کے گھر میںموجودہ زمانے میں نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کے تعلق سے اکثر لوگ غلو کے شکار ہیں، کچھ تو ایسے ہیں کہ جنہوں نے رسول صلى اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اسقدر غلو کیا کہ-اللہ کی پناہ- شرک کے درجے تک پہنچ گئے ، جیسے کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کو پکارنا اور آپ صلى اللہ علیہ وسلم سے مدد طلب کرنا ، اور کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو آپ صلى اللہ علیہ وسلم کی سنت اور طریقہ کار سے بالکل ہی غافل ہیں تو انہوں نے آپ صلى اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کو زندگی کا مشعلِ راہ بنایا اور نہ ہی اسے رہنما سمجھا-آپ کی سیرت طیبہ اور لمحات زندگی کو آسان شکل میں لوگوں کو پیش کرنے کیلئے چند اوراق پر مشتمل یہ کتابچہ ہے جوآپ صلى اللہ علیہ وسلم کی مکمل سیرتِ طیبہ کو سمیٹ تو نہیں سکتا مگر یہ چند جھلکیاں ہیں جو آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے اوصاف کریمہ سے ماخوذ ہیں –نہایت ہی عمدہ کتاب ہے ضرور استفادہ حاصل کریں.
تاليف : عبد الملک القاسم
نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی
اصدارات : دارالبلاغ پبلشر اینڈ ڈسٹری بیوٹر,بلاری,کرناٹک, انڈیا
- زبان کی حفاظتزبان اللہ تعالى کی بڑی عظیم نعمت ہے ’اسکے ذریعے انسان چاہے تو اپنی آخرت کیلئے نیکیاں بھی جمع کرسکتا ہے’ اور چاہے تو اپنی آخرت برباد کرسکتا ہے’ اگرکوئی شخص زبان کو صحیح استعمال کرے’ اور کوئی اچھی بات کہے تو اس بات کی وجہ سے اللہ تعالى نہ جانے کتنے درجات بلند کرتا ہے- جب ایک انسان کافر سے مسلمان ہوتا ہے تو وہ اسی زبان کی بدولت ہوتا ہے’ زبان سے کلمہ شہادت پڑھتا ہے’ دیکھیں صرف ایک کلمے سے پہلے جہنمی تھا اب جنتی بن گیا’ اسکے برعکس اگر اس زبان کا ناجائز استعمال ہو’ توپھریہی زبان اسنان کو جہنم میں کھینچ کرلے جاتی ہے’ اسی وجہ سے کثرت کلام سے منع کیا گیا ہے.کتابچہ مذکور میں اسی زبان کی حفاظت کی تاکید کی گئی ہے.
نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی












