اردو
سورہ ملک - آیات کی تعداد 30
تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ( 1 )
وہ (خدا) جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے بڑی برکت والا ہے۔ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے
الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ ( 2 )
اسی نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون اچھے عمل کرتا ہے۔ اور وہ زبردست (اور) بخشنے والا ہے
الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا ۖ مَّا تَرَىٰ فِي خَلْقِ الرَّحْمَٰنِ مِن تَفَاوُتٍ ۖ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَىٰ مِن فُطُورٍ ( 3 )
اس نے سات آسمان اوپر تلے بنائے۔ (اے دیکھنے والے) کیا تو (خدا) رحمٰن کی آفرنیش میں کچھ نقص دیکھتا ہے؟ ذرا آنکھ اٹھا کر دیکھ بھلا تجھ کو (آسمان میں) کوئی شکاف نظر آتا ہے؟
ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَهُوَ حَسِيرٌ ( 4 )
پھر دو بارہ (سہ بارہ) نظر کر، تو نظر (ہر بار) تیرے پاس ناکام اور تھک کر لوٹ آئے گی
وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَاهَا رُجُومًا لِّلشَّيَاطِينِ ۖ وَأَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِيرِ ( 5 )
اور ہم نے قریب کے آسمان کو (تاروں کے) چراغوں سے زینت دی۔ اور ان کو شیطان کے مارنے کا آلہ بنایا اور ان کے لئے دہکتی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے
وَلِلَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ ( 6 )
اور جن لوگوں نے اپنے پروردگار سے انکار کیا ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے۔ اور وہ برا ٹھکانہ ہے
إِذَا أُلْقُوا فِيهَا سَمِعُوا لَهَا شَهِيقًا وَهِيَ تَفُورُ ( 7 )
جب وہ اس میں ڈالے جائیں گے تو اس کا چیخنا چلانا سنیں گے اور وہ جوش مار رہی ہوگی
تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الْغَيْظِ ۖ كُلَّمَا أُلْقِيَ فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيرٌ ( 8 )
گویا مارے جوش کے پھٹ پڑے گی۔ جب اس میں ان کی کوئی جماعت ڈالی جائے گی تو دوزخ کے داروغہ ان سے پوچھیں گے کہ تمہارے پاس کوئی ہدایت کرنے والا نہیں آیا تھا؟
قَالُوا بَلَىٰ قَدْ جَاءَنَا نَذِيرٌ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللَّهُ مِن شَيْءٍ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا فِي ضَلَالٍ كَبِيرٍ ( 9 )
وہ کہیں گے کیوں نہیں ضرور ہدایت کرنے والا آیا تھا لیکن ہم نے اس کو جھٹلا دیا اور کہا کہ خدا نے تو کوئی چیز نازل ہی نہیں کی۔ تم تو بڑی غلطی میں (پڑے ہوئے) ہو
وَقَالُوا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ ( 10 )
اور کہیں گے اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے تو دوزخیوں میں نہ ہوتے
فَاعْتَرَفُوا بِذَنبِهِمْ فَسُحْقًا لِّأَصْحَابِ السَّعِيرِ ( 11 )
پس وہ اپنے گناہ کا اقرار کرلیں گے۔ سو دوزخیوں کے لئے (رحمت خدا سے) دور ہی ہے
إِنَّ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُم بِالْغَيْبِ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ ( 12 )
(اور) جو لوگ بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے لئے بخشش اور اجر عظیم ہے
وَأَسِرُّوا قَوْلَكُمْ أَوِ اجْهَرُوا بِهِ ۖ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ ( 13 )
اور تم (لوگ) بات پوشیدہ کہو یا ظاہر۔ وہ دل کے بھیدوں تک سے واقف ہے
أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ ( 14 )
بھلا جس نے پیدا کیا وہ بےخبر ہے؟ وہ تو پوشیدہ باتوں کا جاننے والا اور (ہر چیز سے) آگاہ ہے
هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ ذَلُولًا فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُوا مِن رِّزْقِهِ ۖ وَإِلَيْهِ النُّشُورُ ( 15 )
وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو نرم کیا تو اس کی راہوں میں چلو پھرو اور خدا کا (دیا ہو) رزق کھاؤ اور تم کو اسی کے پاس (قبروں سے) نکل کر جانا ہے
أَأَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاءِ أَن يَخْسِفَ بِكُمُ الْأَرْضَ فَإِذَا هِيَ تَمُورُ ( 16 )
کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے بےخوف ہو کہ تم کو زمین میں دھنسا دے اور وہ اس وقت حرکت کرنے لگے
أَمْ أَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاءِ أَن يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ۖ فَسَتَعْلَمُونَ كَيْفَ نَذِيرِ ( 17 )
کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے نڈر ہو کہ تم پر کنکر بھری ہوا چھوڑ دے۔ سو تم عنقریب جان لو گے کہ میرا ڈرانا کیسا ہے
وَلَقَدْ كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيرِ ( 18 )
اور جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے بھی جھٹلایا تھا سو (دیکھ لو کہ) میرا کیسا عذاب ہوا
أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ فَوْقَهُمْ صَافَّاتٍ وَيَقْبِضْنَ ۚ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا الرَّحْمَٰنُ ۚ إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ بَصِيرٌ ( 19 )
کیا انہوں نے اپنے سروں پر اڑتے ہوئے جانوروں کو نہیں دیکھا جو پروں کو پھیلائے رہتے ہیں اور ان کو سکیڑ بھی لیتے ہیں۔ خدا کے سوا انہیں کوئی تھام نہیں سکتا۔ بےشک وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے
أَمَّنْ هَٰذَا الَّذِي هُوَ جُندٌ لَّكُمْ يَنصُرُكُم مِّن دُونِ الرَّحْمَٰنِ ۚ إِنِ الْكَافِرُونَ إِلَّا فِي غُرُورٍ ( 20 )
بھلا ایسا کون ہے جو تمہاری فوج ہو کر خدا کے سوا تمہاری مدد کرسکے۔ کافر تو دھوکے میں ہیں
أَمَّنْ هَٰذَا الَّذِي يَرْزُقُكُمْ إِنْ أَمْسَكَ رِزْقَهُ ۚ بَل لَّجُّوا فِي عُتُوٍّ وَنُفُورٍ ( 21 )
بھلا اگر وہ اپنا رزق بند کرلے تو کون ہے جو تم کو رزق دے؟ لیکن یہ سرکشی اور نفرت میں پھنسے ہوئے ہیں
أَفَمَن يَمْشِي مُكِبًّا عَلَىٰ وَجْهِهِ أَهْدَىٰ أَمَّن يَمْشِي سَوِيًّا عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ( 22 )
بھلا جو شخص چلتا ہوا منہ کے بل گر پڑتا ہے وہ سیدھے رستے پر ہے یا وہ جو سیدھے رستے پر برابر چل رہا ہو؟
قُلْ هُوَ الَّذِي أَنشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ ۖ قَلِيلًا مَّا تَشْكُرُونَ ( 23 )
کہو وہ خدا ہی تو ہے جس نے تم کو پیدا کیا۔ اور تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے (مگر) تم کم احسان مانتے ہو
قُلْ هُوَ الَّذِي ذَرَأَكُمْ فِي الْأَرْضِ وَإِلَيْهِ تُحْشَرُونَ ( 24 )
کہہ دو کہ وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلایا اور اسی کے روبرو تم جمع کئے جاؤ گے
وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ( 25 )
اور کافر کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو یہ وعید کب (پورا) ہوگا؟
قُلْ إِنَّمَا الْعِلْمُ عِندَ اللَّهِ وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُّبِينٌ ( 26 )
کہہ دو اس کا علم خدا ہی کو ہے۔ اور میں تو کھول کھول کر ڈر سنانے دینے والا ہوں
فَلَمَّا رَأَوْهُ زُلْفَةً سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا وَقِيلَ هَٰذَا الَّذِي كُنتُم بِهِ تَدَّعُونَ ( 27 )
سو جب وہ دیکھ لیں گے کہ وہ (وعدہ) قریب آگیا تو کافروں کے منہ برے ہوجائیں گے اور (ان سے) کہا جائے گا کہ یہ وہی ہے جس کے تم خواستگار تھے
قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَهْلَكَنِيَ اللَّهُ وَمَن مَّعِيَ أَوْ رَحِمَنَا فَمَن يُجِيرُ الْكَافِرِينَ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ ( 28 )
کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر خدا مجھ کو اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کردے یا ہم پر مہربانی کرے۔ تو کون ہے کافروں کو دکھ دینے والے عذاب سے پناہ دے؟
کتب
- مختصر مسائل واحکام رمضان, روزہ اور زکو'ۃزیر نظر کتاب میں رمضان, رزوے اورزکاۃ سے متعلق کتاب وسنت کی روشنی میں مختصراحکام ومسائل ذکرکرنے کے ساتھ ساتھ اس ماہ سے متعلق پا ئی جانے والی مشہورضعیف وموضوع روایتوں کوجمع کردیا گیا ہے اورآخرمیں روزہ دارمرد اورعورتوں کیلئے چند اہم نصیحتیں بیان کی گئیں ہیں نہایت ہی مفید کتاب ہے ضروراستفادہ کریں.
تاليف : أبو عدنان محمد منير قمر
نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی
- مختصر کتاب الکبائرمختصر کتاب الکبائر علامہ شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ کی مایہ ناز تالیف ہے جسکوکافی مقبولیت حاصل ہے موصوف نے اسکےاندرکبیرہ گنا ہوں کوکتاب وسنت کی روشنی میں تفصیل سے ذکرکیا ہے تاکہ لوگ اس سے بچ سکیں اورعذاب الہی کا شکارنہ ہوں.
تاليف : شمس الدين الذهبي
نظر ثانی کرنے والا : عطاء الرحمن ضياء الله - شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی
ترجمہ کرنے والا : سعيد احمد قمر الزماں
اصدارات : دفتر تعاون برائے دعوت وتوعية الجاليات ربوہ، رياض
- معراج رسول صلى اللہ علیہ وسلمواقعہ معراج نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کا ایک منفرد, ممتاز اور عظیم الشان واقعہ ہے – یہ ایک طرف رب ذوالجلال کی قدرت کاملہ کا ظہور , الہی معجزہ , صداقت ونبوت کی آیت ونشانی ہے تو دوسری طرف اپنے اندر بے شمار عبرت وموعظت اور دروس ونصائح کے خزانے سےٍ معمور اور عقیدہ وعمل کے بیش بہا موتیوں سے مالا مال ہے, اس واقعہ میں عقیدہ کی اصلاح بھی ہے اور بہت سے معاشرتی آداب کی تعلیم بھی , یہ واقعہ رب کریم کے ساتوں آسمانوں کے اوپر اپنی مخلوق سے الگ اپنے عرش پر مستوى ہونے کی مضبوط ومستحکم دلیل بھی ہے اور اقامت صلاۃ کی ترغیب بھی . اس واقعہ کی اسی گوناگوں اہمیت کے پیش نظر علمائے اسلام نے اسے خصوصی اہمیت دی ہے اور اسکی تشریح وتوضیح میں اپنی کاوشیں صرف کیں. زیرنظر کتا ب بھی اسی سلسلہ کی ایک ادنى سی کاوش ہے جسمیں فاضل مولف نے واقعہ معراج سے متعلق صرف صحیح ومستند روایات نیز مقبول ومعتبر احادیث وآثارکو جگہ دی ہے –اوراس سلسلہ میں محدث عصر شیخ ناصرالدین البانی رحمہ اللہ کی کتاب " الإسراء والمعراج" سے استفادہ کیا ہے نیز مسائل وفوائد کے استنباط میں حافظ ابن حجر کی فتح الباری شرح بخاری سے زیادہ ترفائدہ اٹھایا ہے . اپنے موضوع پر نہایت ہی جامع ومانع کتاب ہے ضرور مطالعہ کریں.
تاليف : عبدالہادی عبد الخالق مدنی
نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی
- توحید اورہمزیر نظر کتاب میں اللہ کےبارے میں مذاہب باطلہ کا تصور, وسیلہ کی حقیقت اوراسکا طریقہ, معجزہ وکرامت میں فرق اور سفارش کے مستحقین وغیرہ کے بارے میں مدلل اور تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے.
تاليف : بشير أحمد لودى
نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی
- رسوماتِ محرّم الحرام اور سانحہ کربلازیر نظر کتاب میں حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ نے محرم الحرام کی رسومات کا تفصیلی تذکرہ کرتے ہوئے غیر جانبداری سے سانحہ کربلا پربالدلائل اپنی قیمتی آراء کا اظہار کیا ہے۔ حافظ صاحب نے شیعی رسومات کی تاریخ ایجاد و آغاز پر روشنی ڈالتے ہوئے یزید پر سب و شتم کے مسئلہ کو بھی بڑے احسن انداز سے قلم زد کیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ شہادت حسین میں یزید کسی بھی حوالے سے ملوث نہیں تھے۔ فاضل مؤلف نے نہایت عرق ریزی کے ساتھ سانحہ کربلا کے اسباب سے نقاب کشائی کرنے کے ساتھ ساتھ واقعات شہادت میں مبالغہ آمیزی کی بھی قلعی کھولی ہے ,نہایت ہی مفید کتاب ہے ضرور مطالعہ کریں.
نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی
اصدارات : مكتبة دار السلام












