قرآن کریم » اردو » سورہ واقعہ

اردو

سورہ واقعہ - آیات کی تعداد 96
إِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ ( 1 ) واقعہ - الآية 1
جب واقع ہونے والی واقع ہوجائے
لَيْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌ ( 2 ) واقعہ - الآية 2
اس کے واقع ہونے میں کچھ جھوٹ نہیں
خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ ( 3 ) واقعہ - الآية 3
کسی کو پست کرے کسی کو بلند
إِذَا رُجَّتِ الْأَرْضُ رَجًّا ( 4 ) واقعہ - الآية 4
جب زمین بھونچال سے لرزنے لگے
وَبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا ( 5 ) واقعہ - الآية 5
اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوجائیں
فَكَانَتْ هَبَاءً مُّنبَثًّا ( 6 ) واقعہ - الآية 6
پھر غبار ہو کر اُڑنے لگیں
وَكُنتُمْ أَزْوَاجًا ثَلَاثَةً ( 7 ) واقعہ - الآية 7
اور تم لوگ تین قسم ہوجاؤ
فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ ( 8 ) واقعہ - الآية 8
تو داہنے ہاتھ والے (سبحان الله) داہنے ہاتھ والے کیا (ہی چین میں) ہیں
وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ ( 9 ) واقعہ - الآية 9
اور بائیں ہاتھ والے (افسوس) بائیں ہاتھ والے کیا (گرفتار عذاب) ہیں
وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ ( 10 ) واقعہ - الآية 10
اور جو آگے بڑھنے والے ہیں (ان کا کیا کہنا) وہ آگے ہی بڑھنے والے ہیں
أُولَٰئِكَ الْمُقَرَّبُونَ ( 11 ) واقعہ - الآية 11
وہی (خدا کے) مقرب ہیں
فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ ( 12 ) واقعہ - الآية 12
نعمت کے بہشتوں میں
ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ ( 13 ) واقعہ - الآية 13
وہ بہت سے تو اگلے لوگوں میں سے ہوں گے
وَقَلِيلٌ مِّنَ الْآخِرِينَ ( 14 ) واقعہ - الآية 14
اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے
عَلَىٰ سُرُرٍ مَّوْضُونَةٍ ( 15 ) واقعہ - الآية 15
(لعل و یاقوت وغیرہ سے) جڑے ہوئے تختوں پر
مُّتَّكِئِينَ عَلَيْهَا مُتَقَابِلِينَ ( 16 ) واقعہ - الآية 16
آمنے سامنے تکیہ لگائے ہوئے
يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُونَ ( 17 ) واقعہ - الآية 17
نوجوان خدمت گزار جو ہمیشہ (ایک ہی حالت میں) رہیں گے ان کے آس پاس پھریں گے
بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِّن مَّعِينٍ ( 18 ) واقعہ - الآية 18
یعنی آبخورے اور آفتابے اور صاف شراب کے گلاس لے لے کر
لَّا يُصَدَّعُونَ عَنْهَا وَلَا يُنزِفُونَ ( 19 ) واقعہ - الآية 19
اس سے نہ تو سر میں درد ہوگا اور نہ ان کی عقلیں زائل ہوں گی
وَفَاكِهَةٍ مِّمَّا يَتَخَيَّرُونَ ( 20 ) واقعہ - الآية 20
اور میوے جس طرح کے ان کو پسند ہوں
وَلَحْمِ طَيْرٍ مِّمَّا يَشْتَهُونَ ( 21 ) واقعہ - الآية 21
اور پرندوں کا گوشت جس قسم کا ان کا جی چاہے
وَحُورٌ عِينٌ ( 22 ) واقعہ - الآية 22
اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں
كَأَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُونِ ( 23 ) واقعہ - الآية 23
جیسے (حفاظت سے) تہہ کئے ہوئے (آب دار) موتی
جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ( 24 ) واقعہ - الآية 24
یہ ان اعمال کا بدلہ ہے جو وہ کرتے تھے
لَا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا تَأْثِيمًا ( 25 ) واقعہ - الآية 25
وہاں نہ بیہودہ بات سنیں گے اور نہ گالی گلوچ
إِلَّا قِيلًا سَلَامًا سَلَامًا ( 26 ) واقعہ - الآية 26
ہاں ان کا کلام سلام سلام (ہوگا)
وَأَصْحَابُ الْيَمِينِ مَا أَصْحَابُ الْيَمِينِ ( 27 ) واقعہ - الآية 27
اور داہنے ہاتھ والے (سبحان الله) داہنے ہاتھ والے کیا (ہی عیش میں) ہیں
فِي سِدْرٍ مَّخْضُودٍ ( 28 ) واقعہ - الآية 28
(یعنی) بےخار کی بیریوں
وَطَلْحٍ مَّنضُودٍ ( 29 ) واقعہ - الآية 29
اور تہہ بہ تہہ کیلوں
وَظِلٍّ مَّمْدُودٍ ( 30 ) واقعہ - الآية 30
اور لمبے لمبے سایوں
وَمَاءٍ مَّسْكُوبٍ ( 31 ) واقعہ - الآية 31
اور پانی کے جھرنوں
وَفَاكِهَةٍ كَثِيرَةٍ ( 32 ) واقعہ - الآية 32
اور میوہ ہائے کثیرہ (کے باغوں) میں
لَّا مَقْطُوعَةٍ وَلَا مَمْنُوعَةٍ ( 33 ) واقعہ - الآية 33
جو نہ کبھی ختم ہوں اور نہ ان سے کوئی روکے
وَفُرُشٍ مَّرْفُوعَةٍ ( 34 ) واقعہ - الآية 34
اور اونچے اونچے فرشوں میں
إِنَّا أَنشَأْنَاهُنَّ إِنشَاءً ( 35 ) واقعہ - الآية 35
ہم نے ان (حوروں) کو پیدا کیا
فَجَعَلْنَاهُنَّ أَبْكَارًا ( 36 ) واقعہ - الآية 36
تو ان کو کنواریاں بنایا
عُرُبًا أَتْرَابًا ( 37 ) واقعہ - الآية 37
(اور شوہروں کی) پیاریاں اور ہم عمر
لِّأَصْحَابِ الْيَمِينِ ( 38 ) واقعہ - الآية 38
یعنی داہنے ہاتھ والوں کے لئے
ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ ( 39 ) واقعہ - الآية 39
(یہ) بہت سے اگلے لوگوں میں سے ہیں
وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ ( 40 ) واقعہ - الآية 40
اور بہت سے پچھلوں میں سے
وَأَصْحَابُ الشِّمَالِ مَا أَصْحَابُ الشِّمَالِ ( 41 ) واقعہ - الآية 41
اور بائیں ہاتھ والے (افسوس) بائیں ہاتھ والے کیا (ہی عذاب میں) ہیں
فِي سَمُومٍ وَحَمِيمٍ ( 42 ) واقعہ - الآية 42
(یعنی دوزخ کی) لپٹ اور کھولتے ہوئے پانی میں
وَظِلٍّ مِّن يَحْمُومٍ ( 43 ) واقعہ - الآية 43
اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں
لَّا بَارِدٍ وَلَا كَرِيمٍ ( 44 ) واقعہ - الآية 44
(جو) نہ ٹھنڈا (ہے) نہ خوشنما
إِنَّهُمْ كَانُوا قَبْلَ ذَٰلِكَ مُتْرَفِينَ ( 45 ) واقعہ - الآية 45
یہ لوگ اس سے پہلے عیشِ نعیم میں پڑے ہوئے تھے
وَكَانُوا يُصِرُّونَ عَلَى الْحِنثِ الْعَظِيمِ ( 46 ) واقعہ - الآية 46
اور گناہ عظیم پر اڑے ہوئے تھے
وَكَانُوا يَقُولُونَ أَئِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَعِظَامًا أَإِنَّا لَمَبْعُوثُونَ ( 47 ) واقعہ - الآية 47
اور کہا کرتے تھے کہ بھلا جب ہم مرگئے اور مٹی ہوگئے اور ہڈیاں (ہی ہڈیاں رہ گئے) تو کیا ہمیں پھر اُٹھنا ہوگا؟
أَوَآبَاؤُنَا الْأَوَّلُونَ ( 48 ) واقعہ - الآية 48
اور کیا ہمارے باپ دادا کو بھی؟
قُلْ إِنَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ ( 49 ) واقعہ - الآية 49
کہہ دو کہ بےشک پہلے اور پچھلے
لَمَجْمُوعُونَ إِلَىٰ مِيقَاتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ ( 50 ) واقعہ - الآية 50
(سب) ایک روز مقرر کے وقت پر جمع کئے جائیں گے
ثُمَّ إِنَّكُمْ أَيُّهَا الضَّالُّونَ الْمُكَذِّبُونَ ( 51 ) واقعہ - الآية 51
پھر تم اے جھٹلانے والے گمرا ہو!
لَآكِلُونَ مِن شَجَرٍ مِّن زَقُّومٍ ( 52 ) واقعہ - الآية 52
تھوہر کے درخت کھاؤ گے
فَمَالِئُونَ مِنْهَا الْبُطُونَ ( 53 ) واقعہ - الآية 53
اور اسی سے پیٹ بھرو گے
فَشَارِبُونَ عَلَيْهِ مِنَ الْحَمِيمِ ( 54 ) واقعہ - الآية 54
اور اس پر کھولتا ہوا پانی پیو گے
فَشَارِبُونَ شُرْبَ الْهِيمِ ( 55 ) واقعہ - الآية 55
اور پیو گے بھی تو اس طرح جیسے پیاسے اونٹ پیتے ہیں
هَٰذَا نُزُلُهُمْ يَوْمَ الدِّينِ ( 56 ) واقعہ - الآية 56
جزا کے دن یہ ان کی ضیافت ہوگی
نَحْنُ خَلَقْنَاكُمْ فَلَوْلَا تُصَدِّقُونَ ( 57 ) واقعہ - الآية 57
ہم نے تم کو (پہلی بار بھی تو) پیدا کیا ہے تو تم (دوبارہ اُٹھنے کو) کیوں سچ نہیں سمجھتے؟
أَفَرَأَيْتُم مَّا تُمْنُونَ ( 58 ) واقعہ - الآية 58
دیکھو تو کہ جس (نطفے) کو تم (عورتوں کے رحم میں) ڈالتے ہو
أَأَنتُمْ تَخْلُقُونَهُ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُونَ ( 59 ) واقعہ - الآية 59
کیا تم اس (سے انسان) کو بناتے ہو یا ہم بناتے ہیں؟
نَحْنُ قَدَّرْنَا بَيْنَكُمُ الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَ ( 60 ) واقعہ - الآية 60
ہم نے تم میں مرنا ٹھہرا دیا ہے اور ہم اس (بات) سے عاجز نہیں
عَلَىٰ أَن نُّبَدِّلَ أَمْثَالَكُمْ وَنُنشِئَكُمْ فِي مَا لَا تَعْلَمُونَ ( 61 ) واقعہ - الآية 61
کہ تمہاری طرح کے اور لوگ تمہاری جگہ لے آئیں اور تم کو ایسے جہان میں جس کو تم نہیں جانتے پیدا کر دیں
وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُولَىٰ فَلَوْلَا تَذَكَّرُونَ ( 62 ) واقعہ - الآية 62
اور تم نے پہلی پیدائش تو جان ہی لی ہے۔ پھر تم سوچتے کیوں نہیں؟
أَفَرَأَيْتُم مَّا تَحْرُثُونَ ( 63 ) واقعہ - الآية 63
بھلا دیکھو تو کہ جو کچھ تم بوتے ہو
أَأَنتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ ( 64 ) واقعہ - الآية 64
تو کیا تم اسے اُگاتے ہو یا ہم اُگاتے ہیں؟
لَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَاهُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُونَ ( 65 ) واقعہ - الآية 65
اگر ہم چاہیں تو اسے چورا چورا کردیں اور تم باتیں بناتے رہ جاؤ
إِنَّا لَمُغْرَمُونَ ( 66 ) واقعہ - الآية 66
(کہ ہائے) ہم تو مفت تاوان میں پھنس گئے
بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ ( 67 ) واقعہ - الآية 67
بلکہ ہم ہیں ہی بےنصیب
أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ ( 68 ) واقعہ - الآية 68
بھلا دیکھو تو کہ جو پانی تم پیتے ہو
أَأَنتُمْ أَنزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنزِلُونَ ( 69 ) واقعہ - الآية 69
کیا تم نے اس کو بادل سے نازل کیا ہے یا ہم نازل کرتے ہیں؟
لَوْ نَشَاءُ جَعَلْنَاهُ أُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْكُرُونَ ( 70 ) واقعہ - الآية 70
اگر ہم چاہیں تو ہم اسے کھاری کردیں پھر تم شکر کیوں نہیں کرتے؟
أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ ( 71 ) واقعہ - الآية 71
بھلا دیکھو تو جو آگ تم درخت سے نکالتے ہو
أَأَنتُمْ أَنشَأْتُمْ شَجَرَتَهَا أَمْ نَحْنُ الْمُنشِئُونَ ( 72 ) واقعہ - الآية 72
کیا تم نے اس کے درخت کو پیدا کیا ہے یا ہم پیدا کرتے ہیں؟
نَحْنُ جَعَلْنَاهَا تَذْكِرَةً وَمَتَاعًا لِّلْمُقْوِينَ ( 73 ) واقعہ - الآية 73
ہم نے اسے یاد دلانے اور مسافروں کے برتنے کو بنایا ہے
فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ ( 74 ) واقعہ - الآية 74
تو تم اپنے پروردگار بزرگ کے نام کی تسبیح کرو
فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ ( 75 ) واقعہ - الآية 75
ہمیں تاروں کی منزلوں کی قسم
وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ ( 76 ) واقعہ - الآية 76
اور اگر تم سمجھو تو یہ بڑی قسم ہے
إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ ( 77 ) واقعہ - الآية 77
کہ یہ بڑے رتبے کا قرآن ہے
فِي كِتَابٍ مَّكْنُونٍ ( 78 ) واقعہ - الآية 78
(جو) کتاب محفوظ میں (لکھا ہوا ہے)
لَّا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ ( 79 ) واقعہ - الآية 79
اس کو وہی ہاتھ لگاتے ہیں جو پاک ہیں
تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ ( 80 ) واقعہ - الآية 80
پروردگار عالم کی طرف سے اُتارا گیا ہے
أَفَبِهَٰذَا الْحَدِيثِ أَنتُم مُّدْهِنُونَ ( 81 ) واقعہ - الآية 81
کیا تم اس کلام سے انکار کرتے ہو؟
وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ ( 82 ) واقعہ - الآية 82
اور اپنا وظیفہ یہ بناتے ہو کہ (اسے) جھٹلاتے ہو
فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ ( 83 ) واقعہ - الآية 83
بھلا جب روح گلے میں آ پہنچتی ہے
وَأَنتُمْ حِينَئِذٍ تَنظُرُونَ ( 84 ) واقعہ - الآية 84
اور تم اس وقت کی (حالت کو) دیکھا کرتے ہو
وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَٰكِن لَّا تُبْصِرُونَ ( 85 ) واقعہ - الآية 85
اور ہم اس (مرنے والے) سے تم سے بھی زیادہ نزدیک ہوتے ہیں لیکن تم کو نظر نہیں آتے
فَلَوْلَا إِن كُنتُمْ غَيْرَ مَدِينِينَ ( 86 ) واقعہ - الآية 86
پس اگر تم کسی کے بس میں نہیں ہو
تَرْجِعُونَهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ( 87 ) واقعہ - الآية 87
تو اگر سچے ہو تو روح کو پھیر کیوں نہیں لیتے؟
فَأَمَّا إِن كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ ( 88 ) واقعہ - الآية 88
پھر اگر وہ (خدا کے) مقربوں میں سے ہے
فَرَوْحٌ وَرَيْحَانٌ وَجَنَّتُ نَعِيمٍ ( 89 ) واقعہ - الآية 89
تو (اس کے لئے) آرام اور خوشبودار پھول اور نعمت کے باغ ہیں
وَأَمَّا إِن كَانَ مِنْ أَصْحَابِ الْيَمِينِ ( 90 ) واقعہ - الآية 90
اور اگر وہ دائیں ہاتھ والوں میں سے ہے
فَسَلَامٌ لَّكَ مِنْ أَصْحَابِ الْيَمِينِ ( 91 ) واقعہ - الآية 91
تو (کہا جائے گا کہ) تجھ پر داہنے ہاتھ والوں کی طرف سے سلام
وَأَمَّا إِن كَانَ مِنَ الْمُكَذِّبِينَ الضَّالِّينَ ( 92 ) واقعہ - الآية 92
اور اگر وہ جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہے
فَنُزُلٌ مِّنْ حَمِيمٍ ( 93 ) واقعہ - الآية 93
تو (اس کے لئے) کھولتے پانی کی ضیافت ہے
وَتَصْلِيَةُ جَحِيمٍ ( 94 ) واقعہ - الآية 94
اور جہنم میں داخل کیا جانا
إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ حَقُّ الْيَقِينِ ( 95 ) واقعہ - الآية 95
یہ (داخل کیا جانا یقیناً صحیح یعنی) حق الیقین ہے
فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ ( 96 ) واقعہ - الآية 96
تو تم اپنے پروردگار بزرگ کے نام کی تسبیح کرتے رہو

کتب

  • نماز نبوی صلى الله عليه وسلم ( احادیث صحیحہ کی روشنی میں )زیر نظر کتاب میں نبی پاک صلى اللہ علیہ وسلم کے نمازکے طریقہ کو صحیح أحادیث کی روشنی میں تفصیلى طورپربیان کیا گیا ہے.

    تاليف : محمد ناصر الدين الألباني

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/174720

    التحميل :نماز نبوی صلى الله عليه وسلم ( احادیث صحیحہ کی روشنی میں )

  • قرآنى معلوماتزیر نظر کتاب میں قرآن کریم کے احکام، اس کے فضائل اور امم سابقہ کے احوال وغیرہ کو نہایت ہی عام فہم اسلوب میں سوال وجواب کی شکل میں ترتیب دیا گیا ہے نہایت ہی مفید کتاب ہے ضرور مستفید ہوں.

    تاليف : أبو عدنان محمد طیب بھواروی

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    اصدارات : دفتر تعاون برائے دعوت وتوعية الجاليات مجمعہ

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/355897

    التحميل :قرآنى معلومات

  • مرزائيت اور اسلاماس کتاب کے اکثرمضمون میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ مرزائیت کا اسلام اورمسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں اورمرزا غلام احمد قادیا نی یہ مسلمانوں کا دشمن اورانگریزی سامراج کا ایجنٹ تھا ,نیز اسکے کفریہ عقیدے اوردیگرہرزہ سرائیوں کی نقاب کشائی کی گئی ہے.

    تاليف : احسان الهي ظهير

    نظر ثانی کرنے والا : عطاء الرحمن ضياء الله

    اصدارات : ادارہ ترجمان السنۃ لا ہو رپاکستان

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/191301

    التحميل :مرزائيت اور اسلام

  • کبیرہ گناہ کیا ہیں؟کبیرہ گناہ:یہ ایسے بڑے گناہ ہیں جو صرف سچی توبہ سے ہی معاف ہوسکتے ہیں.اگرگناہ کسی انسان کے حق سے متعلق نہیں ہے تو،توبہ کی تین شرائط ہیں:1-جس گناہ میں انسان ملّوث ہے اس سے باز آجائے 2-کئے ہوئے گناہ پرندامت وشرمندگی ہو 3-آئندہ اس گناہ کو کبھی نہ کرنے کا عزم ہو- اگرگناہ کسی انسان کے حق سے متعلق ہو تو چوتھی شرط مزید یہ عائد ہوتی ہے 4-اگرکسی انسان کا حق اسنے چھینا ہو تو اسکا حق لوٹادے ،اگروہ نہ ملے تو اسکے وارثوں کودے اوراگروہ بھی نہ ملیں تو اسکی جانب سے صدقہ وخیرات کردے ،اگرحق لوٹانے کی طاقت نہیں تو اس سے معافی مانگ لے،اگروہ نہ ملے تو اسکے حق میں دعائے مغفرت کرے-زیرنظرکتابچہ میں کبیرہ گنا ہوں کو جمع کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ لوگ ان سے بچکراللہ کی وعید سے محفوظ رہ سکیں.

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/368883

    التحميل :کبیرہ گناہ کیا ہیں؟

  • کیا عیسی علیہ السلام کے والد تھے؟كيا حضرت عيسٰی علیہ السلام بن باپ کے پیدا ہوئے؟ ایک طویل مدت تک تو امت مسلمہ کے ہاں یہ مسئلہ اجماعی رہا کہ حضرت عیسی علیہ السلام خدا تعالی کی قدرت کاملہ سے معجزانہ طور پر باپ کے بغیر پیداہوئے – لیکن تقریبا ڈیڑھ صدی قبل برصغیر پاک وہند میں یہ بازگشت سنائی دی کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام عام بچوں کی طرح پیدا ہوئے-عصر حاضر میں غلام احمد پرویز ، مرزا غلام احمد قادیانی ، جاوید احمد غامدی اور ان کی فکر کے علمبردار لوگ اسی قسم کے نظریات کی ترویج واشاعت میں مگن ہیں- زیر نظر کتاب میں ابو القاسم محب اللہ شاہ راشدی نے اسی مسئلے کو زیر بحث لاتے ہوئے اس ضمن میں متعدد علمی مباحث پر دلائل کی روشنی میں گفتگو کی ہے-حضرت جبرائیل علیہ السلام کی بشارت اور حضرت ابراہیم و زکریا علیہ السلام کی بشارت کا تذکرہ کرتےہوئے حضرت عیسی علیہ السلام کی معبودیت کا رد کیا ہے- کتاب کے آخر میں ولادت سیدنا عیسی علیہ السلام کے متعلق مولانا ثناء اللہ امر تسری کے خیالات کو سپردقلم کیا گیاہے-

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/219793

    التحميل :کیا عیسی علیہ السلام کے والد تھے؟

اختر اللغة

اختر سورہ

کتب

اختر تفسير

المشاركه

Bookmark and Share