قرآن کریم » اردو » سورہ رحمن

اردو

سورہ رحمن - آیات کی تعداد 78
الرَّحْمَٰنُ ( 1 ) رحمن - الآية 1
(خدا جو) نہایت مہربان
عَلَّمَ الْقُرْآنَ ( 2 ) رحمن - الآية 2
اسی نے قرآن کی تعلیم فرمائی
خَلَقَ الْإِنسَانَ ( 3 ) رحمن - الآية 3
اسی نے انسان کو پیدا کیا
عَلَّمَهُ الْبَيَانَ ( 4 ) رحمن - الآية 4
اسی نے اس کو بولنا سکھایا
الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ ( 5 ) رحمن - الآية 5
سورج اور چاند ایک حساب مقرر سے چل رہے ہیں
وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدَانِ ( 6 ) رحمن - الآية 6
اور بوٹیاں اور درخت سجدہ کر رہے ہیں
وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ ( 7 ) رحمن - الآية 7
اور اسی نے آسمان کو بلند کیا اور ترازو قائم کی
أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ ( 8 ) رحمن - الآية 8
کہ ترازو (سے تولنے) میں حد سے تجاوز نہ کرو
وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ ( 9 ) رحمن - الآية 9
اور انصاف کے ساتھ ٹھیک تولو۔ اور تول کم مت کرو
وَالْأَرْضَ وَضَعَهَا لِلْأَنَامِ ( 10 ) رحمن - الآية 10
اور اسی نے خلقت کے لئے زمین بچھائی
فِيهَا فَاكِهَةٌ وَالنَّخْلُ ذَاتُ الْأَكْمَامِ ( 11 ) رحمن - الآية 11
اس میں میوے اور کھجور کے درخت ہیں جن کے خوشوں پر غلاف ہوتے ہیں
وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَالرَّيْحَانُ ( 12 ) رحمن - الآية 12
اور اناج جس کے ساتھ بھس ہوتا ہے اور خوشبودار پھول
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 13 ) رحمن - الآية 13
تو (اے گروہ جن وانس) تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
خَلَقَ الْإِنسَانَ مِن صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ ( 14 ) رحمن - الآية 14
اسی نے انسان کو ٹھیکرے کی طرح کھنکھناتی مٹی سے بنایا
وَخَلَقَ الْجَانَّ مِن مَّارِجٍ مِّن نَّارٍ ( 15 ) رحمن - الآية 15
اور جنات کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 16 ) رحمن - الآية 16
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ ( 17 ) رحمن - الآية 17
وہی دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کا مالک (ہے)
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 18 ) رحمن - الآية 18
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ ( 19 ) رحمن - الآية 19
اسی نے دو دریا رواں کئے جو آپس میں ملتے ہیں
بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ ( 20 ) رحمن - الآية 20
دونوں میں ایک آڑ ہے کہ (اس سے) تجاوز نہیں کرسکتے
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 21 ) رحمن - الآية 21
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ ( 22 ) رحمن - الآية 22
دونوں دریاؤں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 23 ) رحمن - الآية 23
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
وَلَهُ الْجَوَارِ الْمُنشَآتُ فِي الْبَحْرِ كَالْأَعْلَامِ ( 24 ) رحمن - الآية 24
اور جہاز بھی اسی کے ہیں جو دریا میں پہاڑوں کی طرح اونچے کھڑے ہوتے ہیں
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 25 ) رحمن - الآية 25
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ ( 26 ) رحمن - الآية 26
جو (مخلوق) زمین پر ہے سب کو فنا ہونا ہے
وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ( 27 ) رحمن - الآية 27
اور تمہارے پروردگار ہی کی ذات (بابرکات) جو صاحب جلال وعظمت ہے باقی رہے گی
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 28 ) رحمن - الآية 28
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
يَسْأَلُهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ ( 29 ) رحمن - الآية 29
آسمان اور زمین میں جتنے لوگ ہیں سب اسی سے مانگتے ہیں۔ وہ ہر روز کام میں مصروف رہتا ہے
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 30 ) رحمن - الآية 30
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
سَنَفْرُغُ لَكُمْ أَيُّهَ الثَّقَلَانِ ( 31 ) رحمن - الآية 31
اے دونوں جماعتو! ہم عنقریب تمہاری طرف متوجہ ہوتے ہیں
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 32 ) رحمن - الآية 32
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَن تَنفُذُوا مِنْ أَقْطَارِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ فَانفُذُوا ۚ لَا تَنفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطَانٍ ( 33 ) رحمن - الآية 33
اے گروہِ جن وانس اگر تمہیں قدرت ہو کہ آسمان اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ۔ اور زور کے سوا تم نکل سکنے ہی کے نہیں
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 34 ) رحمن - الآية 34
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
يُرْسَلُ عَلَيْكُمَا شُوَاظٌ مِّن نَّارٍ وَنُحَاسٌ فَلَا تَنتَصِرَانِ ( 35 ) رحمن - الآية 35
تم پر آگ کے شعلے اور دھواں چھوڑ دیا جائے گا تو پھر تم مقابلہ نہ کرسکو گے
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 36 ) رحمن - الآية 36
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
فَإِذَا انشَقَّتِ السَّمَاءُ فَكَانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهَانِ ( 37 ) رحمن - الآية 37
پھر جب آسمان پھٹ کر تیل کی تلچھٹ کی طرح گلابی ہوجائے گا (تو) وہ کیسا ہولناک دن ہوگا
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 38 ) رحمن - الآية 38
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُسْأَلُ عَن ذَنبِهِ إِنسٌ وَلَا جَانٌّ ( 39 ) رحمن - الآية 39
اس روز نہ تو کسی انسان سے اس کے گناہوں کے بارے میں پرسش کی جائے گی اور نہ کسی جن سے
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 40 ) رحمن - الآية 40
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
يُعْرَفُ الْمُجْرِمُونَ بِسِيمَاهُمْ فَيُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِي وَالْأَقْدَامِ ( 41 ) رحمن - الآية 41
گنہگار اپنے چہرے ہی سے پہچان لئے جائیں گے تو پیشانی کے بالوں اور پاؤں سے پکڑ لئے جائیں گے
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 42 ) رحمن - الآية 42
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
هَٰذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ ( 43 ) رحمن - الآية 43
یہی وہ جہنم ہے جسے گنہگار لوگ جھٹلاتے تھے
يَطُوفُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيمٍ آنٍ ( 44 ) رحمن - الآية 44
وہ دوزخ اور کھولتے ہوئے گرم پانی کے درمیان گھومتے پھریں گے
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 45 ) رحمن - الآية 45
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ ( 46 ) رحمن - الآية 46
اور جو شخص اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا اس کے لئے دو باغ ہیں
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 47 ) رحمن - الآية 47
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
ذَوَاتَا أَفْنَانٍ ( 48 ) رحمن - الآية 48
ان دونوں میں بہت سی شاخیں (یعنی قسم قسم کے میووں کے درخت ہیں)
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 49 ) رحمن - الآية 49
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
فِيهِمَا عَيْنَانِ تَجْرِيَانِ ( 50 ) رحمن - الآية 50
ان میں دو چشمے بہہ رہے ہیں
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 51 ) رحمن - الآية 51
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
فِيهِمَا مِن كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجَانِ ( 52 ) رحمن - الآية 52
ان میں سب میوے دو دو قسم کے ہیں
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 53 ) رحمن - الآية 53
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
مُتَّكِئِينَ عَلَىٰ فُرُشٍ بَطَائِنُهَا مِنْ إِسْتَبْرَقٍ ۚ وَجَنَى الْجَنَّتَيْنِ دَانٍ ( 54 ) رحمن - الآية 54
(اہل جنت) ایسے بچھونوں پر جن کے استرا طلس کے ہیں تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے۔ اور دونوں باغوں کے میوے قریب (جھک رہے) ہیں
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 55 ) رحمن - الآية 55
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
فِيهِنَّ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَانٌّ ( 56 ) رحمن - الآية 56
ان میں نیچی نگاہ والی عورتیں ہیں جن کو اہل جنت سے پہلے نہ کسی انسان نے ہاتھ لگایا اور نہ کسی جن نے
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 57 ) رحمن - الآية 57
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
كَأَنَّهُنَّ الْيَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ ( 58 ) رحمن - الآية 58
گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 59 ) رحمن - الآية 59
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ ( 60 ) رحمن - الآية 60
نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کچھ نہیں ہے
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 61 ) رحمن - الآية 61
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
وَمِن دُونِهِمَا جَنَّتَانِ ( 62 ) رحمن - الآية 62
اور ان باغوں کے علاوہ دو باغ اور ہیں
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 63 ) رحمن - الآية 63
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
مُدْهَامَّتَانِ ( 64 ) رحمن - الآية 64
دونوں خوب گہرے سبز
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 65 ) رحمن - الآية 65
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
فِيهِمَا عَيْنَانِ نَضَّاخَتَانِ ( 66 ) رحمن - الآية 66
ان میں دو چشمے ابل رہے ہیں
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 67 ) رحمن - الآية 67
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
فِيهِمَا فَاكِهَةٌ وَنَخْلٌ وَرُمَّانٌ ( 68 ) رحمن - الآية 68
ان میں میوے اور کھجوریں اور انار ہیں
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 69 ) رحمن - الآية 69
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
فِيهِنَّ خَيْرَاتٌ حِسَانٌ ( 70 ) رحمن - الآية 70
ان میں نیک سیرت (اور) خوبصورت عورتیں ہیں
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 71 ) رحمن - الآية 71
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
حُورٌ مَّقْصُورَاتٌ فِي الْخِيَامِ ( 72 ) رحمن - الآية 72
(وہ) حوریں (ہیں جو) خیموں میں مستور (ہیں)
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 73 ) رحمن - الآية 73
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَانٌّ ( 74 ) رحمن - الآية 74
ان کو اہل جنت سے پہلے نہ کسی انسان نے ہاتھ لگایا اور نہ کسی جن نے
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 75 ) رحمن - الآية 75
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
مُتَّكِئِينَ عَلَىٰ رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَعَبْقَرِيٍّ حِسَانٍ ( 76 ) رحمن - الآية 76
سبز قالینوں اور نفیس مسندوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 77 ) رحمن - الآية 77
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
تَبَارَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِي الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ( 78 ) رحمن - الآية 78
(اے محمدﷺ) تمہارا پروردگار جو صاحب جلال وعظمت ہے اس کا نام بڑا بابرکت ہے

کتب

  • شيعہ حضرات سے ایک سو سوالات؟زیرنظر کتاب شیعہ حضرات سے کئے جانے والے ان 100سوالات پر مشتمل ہے جن میں تحقیقی اور سنجیدہ طرز گفتگو سے انکے سارے مذہب کا پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے. اسی طرح شیعہ سنی اختلافات سے متعلقہ ہرموضوع پر سوالات اٹھائے گئے ہیں تاکہ اهل سنت كے عوام , خواص , مناظرين ، محققين علمى اسلحه سے ليس هو كر باطل كى سركوبى كريں اور اس (بلبلہ آب كى حقيقت هر شخص پر عياں هو).

    تاليف : حافظ مهر محمد ميانوالوى

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    اصدارات : www.aqeedeh.com فارسی زبان میں

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/383806

    التحميل :شيعہ حضرات سے ایک سو سوالات؟

  • اقوام عالم کے ادیان ومذاہبزيرنظر كتاب میں فاضل مؤلف نے ادیان ومذاہب اورفرقوں کا تفصیل سے تذکرہ کیا ہے’ انکے بانیان کے حالات سامنے رکھے ہیں’ ان ادیان ومذاہب کی ابتداکے متعلق بتایا ہے’ انکے عقائد ونظریات واضح کیے ہیں’ ان کی مقدس کتابوں کا ذکرکیا ہے’ اور مختصر طورپراسلام سے انکا تقابل کیا ہے’ نیز اسلام میں ان باطل گروہوں کے متعلق کیا حکم ہے؟اسے بھی آشکارا کیا ہے –ہرمذہب اور فرقے پرمضامین کے آخرمیں اس مذہب کا خلاصہ بھی پیش کیا ہے-اس کتاب کی اعزاز کیلئے صرف یہی کافی ہے کہ یہ عالم اسلام کی مایہ ناز یونیورسٹی مدینہ منورہ میں گریجویشن طلباء کیلئے بطورنصاب شامل ہے.

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/364294

    التحميل :اقوام عالم کے ادیان ومذاہب

  • اسلامي عقيده كتاب وسنت كي روشني میںزیر نظرکتاب میں اسلامی عقیدے کواختصارکے ساتہ سوال وجواب کی شکل میں کتاب وسنت کی روشنی میں جمع کردیا گیا ہے جوعوام وخواص سب کے لئے یکساں طورپرمفید ہے اورخاص کرکے مدارس واسکول کے طلبہ کیلئے نہایت ہی مفید ہے ,کیا ہی بہترہوتا اگر مدارس ومکاتب اورابتدائی اسکولوں کے نصاب تعلیم میں شامل کردیا جاتا ,تاکہ ابتداء ہی سے اسلامی عقائد وافکارنئی نسلوں کی ذہنوں میں رچ بس جاتیں اورباطل وغلط افکارکے بگولے سے محفوظ رھتیں.

    تاليف : محمد جميل زينو

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    ترجمہ کرنے والا : ليث محمد بستوي عمري

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/132366

    التحميل :اسلامي عقيده كتاب وسنت كي روشني میں

  • شرح عقیدہ واسطیہزیر مطالعہ کتاب عقیدہ واسطیہ کی شرح پر مشتمل ہے جسکو اردو زبان میں برادرم عنایت اللہ سنابلى حفظہ اللہ نے منتقل کیا ہے تاکہ اردو داں طبقہ کیلئے استفادہ میں آسانی ہوسکے اہل سنت وجماعت کے منہج کے مطابق دین کے بنیادی مسائل پر مشتمل یہ کتابچہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی مایہ ناز تصنیف میں سے ایک ہے جسکی آسان وعام فہم شرح ڈاکٹر سعید بن وہف قحطانی حفظہ اللہ نے کی ہے نہایت ہی مفید شرح ہے ضرور مطالعہ فرمائیں.

    تاليف : سعيد بن علي بن وهف قحطاني

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/320683

    التحميل :شرح عقیدہ واسطیہ

  • اہل بیت اور صحا بہ کرام کے تعلقات( اسماء اور قرابت داری کی روشنی میں)اہل بیت اور صحا بہ کرام کے تعلقات :بعض لوگ اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ اہل بیت اور صحابہ کے درمیان عداوت ودشمنی اور اختلاف پایا جاتا ہے’ اس غلط فہمی کی وجہ یہ ہے کہ وہ بعض تاریخی روایات کا مطالعہ کرتے ہیں اور سند ومتن میں غورکئے بغیرانکے سطحی اور ظاہری معنی کو بنیاد بنالیتے ہیں’حالانکہ کتنی ہی روایتیں ایسی ہیں جو ہم تک پہنچیں لیکن ان میں سے کوئی بھی صحیح نہیں ہے. اس کتاب میں اہل بیت اور صحابہ کے ما بین پائی جانے والی رشتہ داریوں اور انکے ما بین پائے جانے والے سینکڑوں ایک جیسے ناموں کو بیان کردیا گیا ہے اور یہ ثابت کیا گیا ہے کہ صحابہ کرام اور آل بیت کے درمیان تعلقات نہایت ہی گہرے وخوشگوارتھے.

    تاليف : ابو معاذ سیّد بن احمد بن ابراھیم

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    اصدارات : مركز البحوث في مبرة الآل والأصحاب

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/337611

    التحميل :اہل بیت اور صحا بہ کرام کے تعلقات( اسماء اور قرابت داری کی روشنی میں)

اختر اللغة

اختر سورہ

کتب

اختر تفسير

المشاركه

Bookmark and Share