قرآن کریم » اردو » سورہ نجم

اردو

سورہ نجم - آیات کی تعداد 62
وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَىٰ ( 1 ) نجم - الآية 1
تارے کی قسم جب غائب ہونے لگے
مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَىٰ ( 2 ) نجم - الآية 2
کہ تمہارے رفیق (محمدﷺ) نہ رستہ بھولے ہیں نہ بھٹکے ہیں
وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ ( 3 ) نجم - الآية 3
اور نہ خواہش نفس سے منہ سے بات نکالتے ہیں
إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ ( 4 ) نجم - الآية 4
یہ (قرآن) تو حکم خدا ہے جو (ان کی طرف) بھیجا جاتا ہے
عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ ( 5 ) نجم - الآية 5
ان کو نہایت قوت والے نے سکھایا
ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ ( 6 ) نجم - الآية 6
(یعنی جبرائیل) طاقتور نے پھر وہ پورے نظر آئے
وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَىٰ ( 7 ) نجم - الآية 7
اور وہ (آسمان کے) اونچے کنارے میں تھے
ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ ( 8 ) نجم - الآية 8
پھر قریب ہوئے اوراَور آگے بڑھے
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ ( 9 ) نجم - الآية 9
تو دو کمان کے فاصلے پر یا اس سے بھی کم
فَأَوْحَىٰ إِلَىٰ عَبْدِهِ مَا أَوْحَىٰ ( 10 ) نجم - الآية 10
پھر خدا نے اپنے بندے کی طرف جو بھیجا سو بھیجا
مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَىٰ ( 11 ) نجم - الآية 11
جو کچھ انہوں نے دیکھا ان کے دل نے اس کو جھوٹ نہ مانا
أَفَتُمَارُونَهُ عَلَىٰ مَا يَرَىٰ ( 12 ) نجم - الآية 12
کیا جو کچھ وہ دیکھتے ہیں تم اس میں ان سے جھگڑتے ہو؟
وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ ( 13 ) نجم - الآية 13
اور انہوں نے اس کو ایک بار بھی دیکھا ہے
عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَىٰ ( 14 ) نجم - الآية 14
پرلی حد کی بیری کے پاس
عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَىٰ ( 15 ) نجم - الآية 15
اسی کے پاس رہنے کی جنت ہے
إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَىٰ ( 16 ) نجم - الآية 16
جب کہ اس بیری پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا
مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَىٰ ( 17 ) نجم - الآية 17
ان کی آنکھ نہ تو اور طرف مائل ہوئی اور نہ (حد سے) آگے بڑھی
لَقَدْ رَأَىٰ مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَىٰ ( 18 ) نجم - الآية 18
انہوں نے اپنے پروردگار (کی قدرت) کی کتنی ہی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں
أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّىٰ ( 19 ) نجم - الآية 19
بھلا تم لوگوں نے لات اور عزیٰ کو دیکھا
وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرَىٰ ( 20 ) نجم - الآية 20
اور تیسرے منات کو (کہ یہ بت کہیں خدا ہوسکتے ہیں)
أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنثَىٰ ( 21 ) نجم - الآية 21
(مشرکو!) کیا تمہارے لئے تو بیٹے اور خدا کے لئے بیٹیاں
تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَىٰ ( 22 ) نجم - الآية 22
یہ تقسیم تو بہت بےانصافی کی ہے
إِنْ هِيَ إِلَّا أَسْمَاءٌ سَمَّيْتُمُوهَا أَنتُمْ وَآبَاؤُكُم مَّا أَنزَلَ اللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَانٍ ۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْأَنفُسُ ۖ وَلَقَدْ جَاءَهُم مِّن رَّبِّهِمُ الْهُدَىٰ ( 23 ) نجم - الآية 23
وہ تو صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے گھڑ لئے ہیں۔ خدا نے تو ان کی کوئی سند نازل نہیں کی۔ یہ لوگ محض ظن (فاسد) اور خواہشات نفس کے پیچھے چل رہے ہیں۔ حالانکہ ان کے پروردگار کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے
أَمْ لِلْإِنسَانِ مَا تَمَنَّىٰ ( 24 ) نجم - الآية 24
کیا جس چیز کی انسان آرزو کرتا ہے وہ اسے ضرور ملتی ہے
فَلِلَّهِ الْآخِرَةُ وَالْأُولَىٰ ( 25 ) نجم - الآية 25
آخرت اور دنیا تو الله ہی کے ہاتھ میں ہے
وَكَم مِّن مَّلَكٍ فِي السَّمَاوَاتِ لَا تُغْنِي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا إِلَّا مِن بَعْدِ أَن يَأْذَنَ اللَّهُ لِمَن يَشَاءُ وَيَرْضَىٰ ( 26 ) نجم - الآية 26
اور آسمانوں میں بہت سے فرشتے ہیں جن کی سفارش کچھ بھی فائدہ نہیں دیتی مگر اس وقت کہ خدا جس کے لئے چاہے اجازت بخشے اور (سفارش) پسند کرے
إِنَّ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ لَيُسَمُّونَ الْمَلَائِكَةَ تَسْمِيَةَ الْأُنثَىٰ ( 27 ) نجم - الآية 27
جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہ فرشتوں کو (خدا کی) لڑکیوں کے نام سے موسوم کرتے ہیں
وَمَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ ۖ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ ۖ وَإِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا ( 28 ) نجم - الآية 28
حالانکہ ان کو اس کی کچھ خبر نہیں۔ وہ صرف ظن پر چلتے ہیں۔ اور ظن یقین کے مقابلے میں کچھ کام نہیں آتا
فَأَعْرِضْ عَن مَّن تَوَلَّىٰ عَن ذِكْرِنَا وَلَمْ يُرِدْ إِلَّا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا ( 29 ) نجم - الآية 29
تو جو ہماری یاد سے روگردانی اور صرف دنیا ہی کی زندگی کا خواہاں ہو اس سے تم بھی منہ پھیر لو
ذَٰلِكَ مَبْلَغُهُم مِّنَ الْعِلْمِ ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدَىٰ ( 30 ) نجم - الآية 30
ان کے علم کی انتہا یہی ہے۔ تمہارا پروردگار اس کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کے رستے سے بھٹک گیا اور اس سے بھی خوب واقف ہے جو رستے پر چلا
وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى ( 31 ) نجم - الآية 31
اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے (اور اس نے خلقت کو) اس لئے (پیدا کیا ہے) کہ جن لوگوں نے برے کام کئے ان کو ان کے اعمال کا (برا) بدلا دے اور جنہوں نے نیکیاں کیں ان کو نیک بدلہ دے
الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلَّا اللَّمَمَ ۚ إِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ ۚ هُوَ أَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ أَنشَأَكُم مِّنَ الْأَرْضِ وَإِذْ أَنتُمْ أَجِنَّةٌ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ ۖ فَلَا تُزَكُّوا أَنفُسَكُمْ ۖ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَىٰ ( 32 ) نجم - الآية 32
جو صغیرہ گناہوں کے سوا بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کی باتوں سے اجتناب کرتے ہیں۔ بےشک تمہارا پروردگار بڑی بخشش والا ہے۔ وہ تم کو خوب جانتا ہے۔ جب اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں بچّے تھے۔ تو اپنے آپ کو پاک صاف نہ جتاؤ۔ جو پرہیزگار ہے وہ اس سے خوب واقف ہے
أَفَرَأَيْتَ الَّذِي تَوَلَّىٰ ( 33 ) نجم - الآية 33
بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے منہ پھیر لیا
وَأَعْطَىٰ قَلِيلًا وَأَكْدَىٰ ( 34 ) نجم - الآية 34
اور تھوڑا سا دیا (پھر) ہاتھ روک لیا
أَعِندَهُ عِلْمُ الْغَيْبِ فَهُوَ يَرَىٰ ( 35 ) نجم - الآية 35
کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہ اس کو دیکھ رہا ہے
أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِي صُحُفِ مُوسَىٰ ( 36 ) نجم - الآية 36
کیا جو باتیں موسیٰ کے صحیفوں میں ہیں ان کی اس کو خبر نہیں پہنچی
وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ ( 37 ) نجم - الآية 37
اور ابراہیمؑ کی جنہوں نے (حق طاعت ورسالت) پورا کیا
أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ ( 38 ) نجم - الآية 38
یہ کہ کوئی شخص دوسرے (کے گناہ) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا
وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ ( 39 ) نجم - الآية 39
اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے
وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَىٰ ( 40 ) نجم - الآية 40
اور یہ کہ اس کی کوشش دیکھی جائے گی
ثُمَّ يُجْزَاهُ الْجَزَاءَ الْأَوْفَىٰ ( 41 ) نجم - الآية 41
پھر اس کو اس کا پورا پورا بدلا دیا جائے گا
وَأَنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ الْمُنتَهَىٰ ( 42 ) نجم - الآية 42
اور یہ کہ تمہارے پروردگار ہی کے پاس پہنچنا ہے
وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَىٰ ( 43 ) نجم - الآية 43
اور یہ کہ وہ ہنساتا اور رلاتا ہے
وَأَنَّهُ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا ( 44 ) نجم - الآية 44
اور یہ کہ وہی مارتا اور جلاتا ہے
وَأَنَّهُ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ ( 45 ) نجم - الآية 45
اور یہ کہ وہی نر اور مادہ دو قسم (کے حیوان) پیدا کرتا ہے
مِن نُّطْفَةٍ إِذَا تُمْنَىٰ ( 46 ) نجم - الآية 46
(یعنی) نطفے سے جو (رحم میں) ڈالا جاتا ہے
وَأَنَّ عَلَيْهِ النَّشْأَةَ الْأُخْرَىٰ ( 47 ) نجم - الآية 47
اور یہ کہ (قیامت کو) اسی پر دوبارہ اٹھانا لازم ہے
وَأَنَّهُ هُوَ أَغْنَىٰ وَأَقْنَىٰ ( 48 ) نجم - الآية 48
اور یہ کہ وہی دولت مند بناتا اور مفلس کرتا ہے
وَأَنَّهُ هُوَ رَبُّ الشِّعْرَىٰ ( 49 ) نجم - الآية 49
اور یہ کہ وہی شعریٰ کا مالک ہے
وَأَنَّهُ أَهْلَكَ عَادًا الْأُولَىٰ ( 50 ) نجم - الآية 50
اور یہ کہ اسی نے عاد اول کو ہلاک کر ڈالا
وَثَمُودَ فَمَا أَبْقَىٰ ( 51 ) نجم - الآية 51
اور ثمود کو بھی۔ غرض کسی کو باقی نہ چھوڑا
وَقَوْمَ نُوحٍ مِّن قَبْلُ ۖ إِنَّهُمْ كَانُوا هُمْ أَظْلَمَ وَأَطْغَىٰ ( 52 ) نجم - الآية 52
اور ان سے پہلے قوم نوحؑ کو بھی۔ کچھ شک نہیں کہ وہ لوگ بڑے ہی ظالم اور بڑے ہی سرکش تھے
وَالْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوَىٰ ( 53 ) نجم - الآية 53
اور اسی نے الٹی ہوئی بستیوں کو دے پٹکا
فَغَشَّاهَا مَا غَشَّىٰ ( 54 ) نجم - الآية 54
پھر ان پر چھایا جو چھایا
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكَ تَتَمَارَىٰ ( 55 ) نجم - الآية 55
تو (اے انسان) تو اپنے پروردگار کی کون سی نعمت پر جھگڑے گا
هَٰذَا نَذِيرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْأُولَىٰ ( 56 ) نجم - الآية 56
یہ (محمدﷺ) بھی اگلے ڈر سنانے والوں میں سے ایک ڈر سنانے والے ہیں
أَزِفَتِ الْآزِفَةُ ( 57 ) نجم - الآية 57
آنے والی (یعنی قیامت) قریب آ پہنچی
لَيْسَ لَهَا مِن دُونِ اللَّهِ كَاشِفَةٌ ( 58 ) نجم - الآية 58
اس (دن کی تکلیفوں) کو خدا کے سوا کوئی دور نہیں کرسکے گا
أَفَمِنْ هَٰذَا الْحَدِيثِ تَعْجَبُونَ ( 59 ) نجم - الآية 59
اے منکرین خدا) کیا تم اس کلام سے تعجب کرتے ہو؟
وَتَضْحَكُونَ وَلَا تَبْكُونَ ( 60 ) نجم - الآية 60
اور ہنستے ہو اور روتے نہیں؟
وَأَنتُمْ سَامِدُونَ ( 61 ) نجم - الآية 61
اور تم غفلت میں پڑ رہے ہو
فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا ۩ ( 62 ) نجم - الآية 62
تو خدا کے آگے سجدہ کرو اور (اسی کی) عبادت کرو

کتب

  • مرزائيت اور اسلاماس کتاب کے اکثرمضمون میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ مرزائیت کا اسلام اورمسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں اورمرزا غلام احمد قادیا نی یہ مسلمانوں کا دشمن اورانگریزی سامراج کا ایجنٹ تھا ,نیز اسکے کفریہ عقیدے اوردیگرہرزہ سرائیوں کی نقاب کشائی کی گئی ہے.

    تاليف : احسان الهي ظهير

    نظر ثانی کرنے والا : عطاء الرحمن ضياء الله

    اصدارات : ادارہ ترجمان السنۃ لا ہو رپاکستان

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/191301

    التحميل :مرزائيت اور اسلام

  • شيعہ حضرات سے ایک سو سوالات؟زیرنظر کتاب شیعہ حضرات سے کئے جانے والے ان 100سوالات پر مشتمل ہے جن میں تحقیقی اور سنجیدہ طرز گفتگو سے انکے سارے مذہب کا پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے. اسی طرح شیعہ سنی اختلافات سے متعلقہ ہرموضوع پر سوالات اٹھائے گئے ہیں تاکہ اهل سنت كے عوام , خواص , مناظرين ، محققين علمى اسلحه سے ليس هو كر باطل كى سركوبى كريں اور اس (بلبلہ آب كى حقيقت هر شخص پر عياں هو).

    تاليف : حافظ مهر محمد ميانوالوى

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    اصدارات : www.aqeedeh.com فارسی زبان میں

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/383806

    التحميل :شيعہ حضرات سے ایک سو سوالات؟

  • کلمئہ طیبہ مفہوم ,فضائل, ارکان وشروط , تقاضے اور منافی اموریہ "کلمہ توحید" یعنى مضبوط اور قابل اعتماد کڑا, کلمہ طیہ , کلمہ تقوى, شہادتِ حق اور دعوتِ حق " أشہد أن لا إلہ الإ اللہ وأشہد أن محمدا عبدہ ورسولہ" کے سلسلہ میں ایک مختصر رسالہ ہے , جسکا مطالعہ کرکے انسان کلمہ طیبہ کے حقیقی معنى ومفہوم اور اسکے تقاضوں سے مکمل طور پر واقف ہوسکتا ہے. نہایت ہی مفید کتاب ہے ضرور استفادہ اٹھائیں.

    تاليف : سعيد بن علي بن وهف قحطاني

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/324077

    التحميل :کلمئہ طیبہ مفہوم ,فضائل, ارکان وشروط , تقاضے اور منافی امور

  • افتراق ِ اُمّت (شِيعه وسُنّى) كے بنيادى اسبابمسلمانوں كے افكار وخيالات ومقاصد ميں اتحاد واتفاق پيدا كرنا اسلام كے اهم تقاضوں ميں سے ہے۔ نيز قوت ، ترقى اور اصلاح كے وسائل ميں سے ہے۔ اور يہ قرب واتحاد اهل اسلام كے افراد اور جماعتوں كے لئے ہرزمان ومكان ميں بهترين خير کا باعث رہا ہے .رسالہ مذکورمیں شیعہ سنی اتحاد اور اسکی ناكامى كے اسباب كو درج ذيل عنوانات كے تحت واضح كيا گياهے: 1- شيعہ سنى افتراق كا بنيادى سبب. 2- مسئله تقيہ. 3-قرآن كريم پر طعن. 4-مصر ميں عيسائى مشنريوں كے لئے شيعوں كا عقيده تحريفِ قرآن اور اس كے اثبات پر كتب كى اشاعت باعث خوشى. 5- اماموں كے غيب دان هونے كا دعوى اور نبی صلى اللہ علیہ وسلم كى وحى كا انكار. 6- اصول اسلام میں شیعہ کا اختلاف7- شیعہ کا مقصد صرف اپنے مذہب کی اشاعت نہ کہ اتحاد کا قیام.

    تاليف : محب الدین الخطیب

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    ترجمہ کرنے والا : شمس الدين احمد قريشى

    اصدارات : www.aqeedeh.com فارسی زبان میں

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/380523

    التحميل :افتراق ِ اُمّت (شِيعه وسُنّى) كے بنيادى اسباب

  • (ايران ، لبنان و خليجي ممالك میں سرگرم تنظیم) حزب اللہ کون ہے؟حزب الله كون ہے؟ :لبنان کی شیعہ تنظیم حزب اللہ کی حقیقت حال سے نا واقفیت کی بنا پر بہت سارے مسلمان دھوکہ کھا گئےٍ ہیں –حتى کہ کچھ جاہل سنی مسلمان اس تنظیم کے سربراہ حسن نصراللہ کو مسلمانوں کا ہیروقراردے رہے ہیں- اور اسے خراج تحسین پیش کرنے کیلئےاس کے سرکو بوسہ دینے کی دعوت دے رہے ہیں- یقیناً یہ بہت بڑی جہالت کی بات ہے جسکا سبب اس تنظیم کی اصلیت’ انکے عقائد’مقاصد اور انکی تاریخی حیثیت سے ناواقفیت ہے جوکہ بے گناہ سنی مسلمانوں کے خون سے آلودہ ہے.اللہ عمرفاروق پررحم فرمائے انہوں نے کیا خوب فرمایا ہے: "یقیناً اسلام کی گرہیں ایک ایک کرکے کھلتی جائیں گی جب اسلام میں ایسے لوگ داخل ہوجائیں گے جو جاہلیت سے ناواقف ہوں گے"-کتاب مذکور میں چند ایسے بنیادی سوالوں کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو حزب اللہ کی اصلیت کو واضح کردے اور اسکے مخفی گھناؤنے چہرے کو سنّی مسلمانوں کے سامنے بے نقاب کردے. نہایت ہی مفید کتاب ہے ضرور مطالعہ کریں.

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/340027

    التحميل :(ايران ، لبنان و خليجي ممالك میں سرگرم تنظیم) حزب اللہ کون ہے؟

اختر اللغة

اختر سورہ

کتب

اختر تفسير

المشاركه

Bookmark and Share