اردو
سورہ طور - آیات کی تعداد 49
يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا ( 13 )
جس دن ان کو آتش جہنم کی طرف دھکیل دھکیل کر لے جائیں گے
اصْلَوْهَا فَاصْبِرُوا أَوْ لَا تَصْبِرُوا سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ ۖ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ( 16 )
اس میں داخل ہوجاؤ اور صبر کرو یا نہ کرو تمہارے لئے یکساں ہے۔ جو کام تم کیا کرتے تھے (یہ) انہی کا تم کو بدلہ مل رہا ہے
فَاكِهِينَ بِمَا آتَاهُمْ رَبُّهُمْ وَوَقَاهُمْ رَبُّهُمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ ( 18 )
جو کچھ ان کے پروردگار نے ان کو بخشا اس (کی وجہ) سے خوشحال۔ اور ان کے پروردگار نے ان کو دوزخ کے عذاب سے بچا لیا
كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ( 19 )
اپنے اعمال کے صلے میں مزے سے کھاؤ اور پیو
مُتَّكِئِينَ عَلَىٰ سُرُرٍ مَّصْفُوفَةٍ ۖ وَزَوَّجْنَاهُم بِحُورٍ عِينٍ ( 20 )
تختوں پر جو برابر برابر بچھے ہوئے ہیں تکیہ لگائے ہوئے اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے ہم ان کا عقد کر دیں گے
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَا أَلَتْنَاهُم مِّنْ عَمَلِهِم مِّن شَيْءٍ ۚ كُلُّ امْرِئٍ بِمَا كَسَبَ رَهِينٌ ( 21 )
اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد بھی (راہ) ایمان میں ان کے پیچھے چلی۔ ہم ان کی اولاد کو بھی ان (کے درجے) تک پہنچا دیں گے اور ان کے اعمال میں سے کچھ کم نہ کریں گے۔ ہر شخص اپنے اعمال میں پھنسا ہوا ہے
وَأَمْدَدْنَاهُم بِفَاكِهَةٍ وَلَحْمٍ مِّمَّا يَشْتَهُونَ ( 22 )
اور جس طرح کے میوے اور گوشت کو ان کا جی چاہے گا ہم ان کو عطا کریں گے
يَتَنَازَعُونَ فِيهَا كَأْسًا لَّا لَغْوٌ فِيهَا وَلَا تَأْثِيمٌ ( 23 )
وہاں وہ ایک دوسرے سے جام شراب جھپٹ لیا کریں گے جس (کے پینے) سے نہ ہذیان سرائی ہوگی نہ کوئی گناہ کی بات
وَيَطُوفُ عَلَيْهِمْ غِلْمَانٌ لَّهُمْ كَأَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَّكْنُونٌ ( 24 )
اور نوجوان خدمت گار (جو ایسے ہوں گے) جیسے چھپائے ہوئے موتی ان کے آس پاس پھریں گے
وَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ ( 25 )
اور ایک دوسرے کی طرف رخ کرکے آپس میں گفتگو کریں گے
قَالُوا إِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِي أَهْلِنَا مُشْفِقِينَ ( 26 )
کہیں گے کہ اس سے پہلے ہم اپنے گھر میں (خدا سے) ڈرتے رہتے تھے
فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيْنَا وَوَقَانَا عَذَابَ السَّمُومِ ( 27 )
تو خدا نے ہم پر احسان فرمایا اور ہمیں لو کے عذاب سے بچا لیا
إِنَّا كُنَّا مِن قَبْلُ نَدْعُوهُ ۖ إِنَّهُ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِيمُ ( 28 )
اس سے پہلے ہم اس سے دعائیں کیا کرتے تھے۔ بےشک وہ احسان کرنے والا مہربان ہے
فَذَكِّرْ فَمَا أَنتَ بِنِعْمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٍ وَلَا مَجْنُونٍ ( 29 )
تو (اے پیغمبر) تم نصیحت کرتے رہو تم اپنے پروردگار کے فضل سے نہ تو کاہن ہو اور نہ دیوانے
أَمْ يَقُولُونَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهِ رَيْبَ الْمَنُونِ ( 30 )
کیا کافر کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہے (اور) ہم اس کے حق میں زمانے کے حوادث کا انتظار کر رہے ہیں
قُلْ تَرَبَّصُوا فَإِنِّي مَعَكُم مِّنَ الْمُتَرَبِّصِينَ ( 31 )
کہہ دو کہ انتظار کئے جاؤ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں
أَمْ تَأْمُرُهُمْ أَحْلَامُهُم بِهَٰذَا ۚ أَمْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُونَ ( 32 )
کیا ان کی عقلیں ان کو یہی سکھاتی ہیں۔ بلکہ یہ لوگ ہیں ہی شریر
أَمْ يَقُولُونَ تَقَوَّلَهُ ۚ بَل لَّا يُؤْمِنُونَ ( 33 )
کیا (کفار) کہتے ہیں کہ ان پیغمبر نے قرآن از خود بنا لیا ہے بات یہ ہے کہ یہ (خدا پر) ایمان نہیں رکھتے
فَلْيَأْتُوا بِحَدِيثٍ مِّثْلِهِ إِن كَانُوا صَادِقِينَ ( 34 )
اگر یہ سچے ہیں تو ایسا کلام بنا تو لائیں
أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ ( 35 )
کیا یہ کسی کے پیدا کئے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہیں۔ یا یہ خود (اپنے تئیں) پیدا کرنے والے ہیں
أَمْ خَلَقُوا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ۚ بَل لَّا يُوقِنُونَ ( 36 )
یا انہوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟ (نہیں) بلکہ یہ یقین ہی نہیں رکھتے
أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ ( 37 )
کیا ان کے پاس تمہارے پروردگار کے خزانے ہیں۔ یا یہ (کہیں کے) داروغہ ہیں؟
أَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ يَسْتَمِعُونَ فِيهِ ۖ فَلْيَأْتِ مُسْتَمِعُهُم بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ ( 38 )
یا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر (چڑھ کر آسمان سے باتیں) سن آتے ہیں۔ تو جو سن آتا ہے وہ صریح سند دکھائے
أَمْ تَسْأَلُهُمْ أَجْرًا فَهُم مِّن مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُونَ ( 40 )
(اے پیغمبر) کیا تم ان سے صلہ مانگتے ہو کہ ان پر تاوان کا بوجھ پڑ رہا ہے
أَمْ عِندَهُمُ الْغَيْبُ فَهُمْ يَكْتُبُونَ ( 41 )
یا ان کے پاس غیب (کا علم) ہے کہ وہ اسے لکھ لیتے ہیں
أَمْ يُرِيدُونَ كَيْدًا ۖ فَالَّذِينَ كَفَرُوا هُمُ الْمَكِيدُونَ ( 42 )
کیا یہ کوئی داؤں کرنا چاہتے ہیں تو کافر تو خود داؤں میں آنے والے ہیں
أَمْ لَهُمْ إِلَٰهٌ غَيْرُ اللَّهِ ۚ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ ( 43 )
کیا خدا کے سوا ان کا کوئی اور معبود ہے؟ خدا ان کے شریک بنانے سے پاک ہے
وَإِن يَرَوْا كِسْفًا مِّنَ السَّمَاءِ سَاقِطًا يَقُولُوا سَحَابٌ مَّرْكُومٌ ( 44 )
اور اگر یہ آسمان سے (عذاب) کا کوئی ٹکڑا گرتا ہوا دیکھیں تو کہیں کہ یہ گاڑھا بادل ہے
فَذَرْهُمْ حَتَّىٰ يُلَاقُوا يَوْمَهُمُ الَّذِي فِيهِ يُصْعَقُونَ ( 45 )
پس ان کو چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ روز جس میں وہ بےہوش کردیئے جائیں گے، سامنے آجائے
يَوْمَ لَا يُغْنِي عَنْهُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ ( 46 )
جس دن ان کا کوئی داؤں کچھ بھی کام نہ آئے اور نہ ان کو (کہیں سے) مدد ہی ملے
وَإِنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا عَذَابًا دُونَ ذَٰلِكَ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ( 47 )
اور ظالموں کے لئے اس کے سوا اور عذاب بھی ہے لیکن ان میں کے اکثر نہیں جانتے
کتب
- مسئلہ تکفیر اہل سنت اور گمراہ فرقوں کے ما بین ایک جائزہ"مسئلہ تکفیر" کے بیان مین یہ ایک مختصر رسالہ ہے جسکے اندر مولف حفظہ اللہ نے اس عظیم اور نازک مسئلہ میں اہل سنت وجماعت کا عقیدہ بیان کیا ہے اور ان کے مخالفین ''گمراہ فرقوں'' پرانکی تردید کی وضاحت کی ہے. اپنے موضوع پرنہایت ہی اہم کتا ب ہے ضرور مطالعہ کریں.
تاليف : سعيد بن علي بن وهف قحطاني
نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی
اصدارات : دفتر تعاون برائے دعوت وتوعية الجاليات ربوہ، رياض
- توحید کا نور اور شرک کی تاریکیاں کتاب وسنت کی روشنی میںتوحید کی نور اور شرک کی تاریکیوں کے سلسلہ میں یہ ایک مختصر رسالہ ہے جس میں تو حید کا مفہوم , اسکے دلائل , اسکے انواع واقسام, اسکے ثمرات, شرک کا مفہوم, اسکے ابطال کے دلائل , مثبت ومنفى شفاعت , شرک کے اسباب ووسائل , اسکے انواع واقسام اور اسکے آثار ونقصانات بیان کئے گئے ہیں- نہایت ہی مفید کتاب ہے ضرور مطالعہ کریں.
تاليف : سعيد بن علي بن وهف قحطاني
نظر ثانی کرنے والا : ابو المکرم عبد الجلیل
- حجيّت حديثحجيّت حديث : زیرنظرکتا ب میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ حدیث شریعت اسلامیہ کی دوسری مصدرہے اورحجت کے اعتبارسے قرآن کے ہم مثل ہے اورقرآں کے مجملات کی تشریح وتفسیرکرنے والی ہے نیز منکرین حدیث کے بعض شہبات کا جائزہ لے کرانکا شرعی پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے.
تاليف : صفي الرحمن المباركفوري
نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی
اصدارات : دفتر تعاون برائے دعوت وتوعية الجاليات ربوہ، رياض
- نجات کا راستہزیر نظر کتابچہ میں مختصر طور پر دین اسلام کے بنیادی امور کا تذکرہ ہے جنکی معرفت حاصل کرنی اسلام قبول کرنے والے شخص کیلئے ضروری ہے تاکہ انکے مطابق عمل کرکے دنیا وآخرت میں کامیاب ہوسکے.
تاليف : فیصل بن سکیت السکیت
نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی
اصدارات : دفتر تعاونی برائے دعوت وتوعیۃ الجالیات ، نسیم
- پیغمبررحمت صلى اللہ علیہ وسلماللہ تعالی نے انسان کو عقل وشعور سے نوازا ہے-عقل کو اگر شتر بے مہار کی طرح آزاد چھوڑ دیا جائے اور اسے خاص حدود وضوابط کا پابند نہ بنایا جائے تو وہ فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بنتی لہے- اسی لیے اللہ نے بنی نوع انسان کی رہنمائی کیلئے انبیاء ورسل کا سلسلہ جاری فرمایا- ہر عہد اور ہر علاقے میں انبیاء آتے اور فریضہ تبلیغ ودعوت ادا کرتے رہے تا آنکہ وحی ورسالت کا یہ زریں سلسلہ نبی عربی محمد صلى اللہ علیہ وسلم پر ختم کردیا گیا – اب قیامت تک آنے والے انسانوں کیلئے آپ ہی اللہ کی طرف سے ہادی ورہنما ہیں- آپ ہی کی بتلائی ہوئی تعلیمات وہدایات انسانیت کی نجات اور ابدی سعادت وخوش بختی کا واحد ذریعہ ہیں- ان سے اعراض وگزیرکرتے ہوئے محض اپنی عقل پر انحصار کرکے انسانیت قعرِ مذلت میں تو گرسکتی ہے لیکن امن وسکون وعافیت وراحت اور ابدی نجات سے ہمکنار نہیں ہوسکتی- اگرانسان موجودہ خلفشار اور پیش آمدہ تباہی وبربادی سے بچنا چاہتا ہے تو اسکیلئے ناگزیرہے کہ وہ پیغمبر رحمت صلى اللہ علیہ وسلم کے دامنِ عافیت میں پناہ لے جن کو خود اللہ تعالی نے رحمت للعالمین کے لقب سے ملقب فرمایا ہے , اور اس دین رحمت کے حصار میں آجائے جو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے سامنے پیش فرمایا- زیرنظر کتاب نبی صل اللہ علیہ وسلم کی رحمۃ للعالمینی کے اسی پہلو کواجاگر اورواضح کرتی ہے – کاش ! لوگ آپ صلى اللہ علیہ وسلم کی سیرت وکردار اور اسوہ حسنہ کا مطالعہ کریں اور اسے اپنی زندگی میں سمولیں کہ اسی میں مسلمانوں کی عظمت رفتہ کا راز مضمر ہے اور انسانیت کی فلاح ونجات بھی اسی سے وابستہ ہے-
تاليف : سعيد بن علي بن وهف قحطاني
اصدارات : مكتبة دار السلام












