اردو
سورہ جاثیہ - آیات کی تعداد 37
تَنزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ ( 2 )
اس کتاب کا اُتارا جانا خدائے غالب (اور) دانا (کی طرف) سے ہے
إِنَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِّلْمُؤْمِنِينَ ( 3 )
بےشک آسمانوں اور زمین میں ایمان والوں کے لئے (خدا کی قدرت کی) نشانیاں ہیں
وَفِي خَلْقِكُمْ وَمَا يَبُثُّ مِن دَابَّةٍ آيَاتٌ لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ ( 4 )
اور تمہاری پیدائش میں بھی۔ اور جانوروں میں بھی جن کو وہ پھیلاتا ہے یقین کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں
وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمَا أَنزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مِن رِّزْقٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ آيَاتٌ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ ( 5 )
اور رات اور دن کے آگے پیچھے آنے جانے میں اور وہ جو خدا نے آسمان سے (ذریعہٴ) رزق نازل فرمایا پھر اس سے زمین کو اس کے مرجانے کے بعد زندہ کیا اس میں اور ہواؤں کے بدلنے میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں
تِلْكَ آيَاتُ اللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۖ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ ( 6 )
یہ خدا کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو سچائی کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں۔ تو یہ خدا اور اس کی آیتوں کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے؟
يَسْمَعُ آيَاتِ اللَّهِ تُتْلَىٰ عَلَيْهِ ثُمَّ يُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَأَن لَّمْ يَسْمَعْهَا ۖ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ ( 8 )
(کہ) خدا کی آیتیں اس کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کو سن تو لیتا ہے (مگر) پھر غرور سے ضد کرتا ہے کہ گویا ان کو سنا ہی نہیں۔ سو ایسے شخص کو دکھ دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا دو
وَإِذَا عَلِمَ مِنْ آيَاتِنَا شَيْئًا اتَّخَذَهَا هُزُوًا ۚ أُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ ( 9 )
اور جب ہماری کچھ آیتیں اسے معلوم ہوتی ہیں تو ان کی ہنسی اُڑاتا ہے۔ ایسے لوگوں کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہے
مِّن وَرَائِهِمْ جَهَنَّمُ ۖ وَلَا يُغْنِي عَنْهُم مَّا كَسَبُوا شَيْئًا وَلَا مَا اتَّخَذُوا مِن دُونِ اللَّهِ أَوْلِيَاءَ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ( 10 )
ان کے سامنے دوزخ ہے۔ اور جو کام وہ کرتے رہے کچھ بھی ان کے کام نہ آئیں گے۔ اور نہ وہی (کام آئیں گے) جن کو انہوں نے خدا کے سوا معبود بنا رکھا تھا۔ اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے
هَٰذَا هُدًى ۖ وَالَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّن رِّجْزٍ أَلِيمٌ ( 11 )
یہ ہدایت (کی کتاب) ہے۔ اور جو لوگ اپنے پروردگار کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں ان کو سخت قسم کا درد دینے والا عذاب ہوگا
اللَّهُ الَّذِي سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِيَ الْفُلْكُ فِيهِ بِأَمْرِهِ وَلِتَبْتَغُوا مِن فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ( 12 )
خدا ہی تو ہے جس نے دریا کو تمہارے قابو کردیا تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں اور تاکہ تم اس کے فضل سے (معاش) تلاش کرو اور تاکہ شکر کرو
وَسَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِّنْهُ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ ( 13 )
اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو اپنے (حکم) سے تمہارے کام میں لگا دیا۔ جو لوگ غور کرتے ہیں ان کے لئے اس میں (قدرت خدا کی) نشانیاں ہیں
قُل لِّلَّذِينَ آمَنُوا يَغْفِرُوا لِلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ أَيَّامَ اللَّهِ لِيَجْزِيَ قَوْمًا بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ ( 14 )
مومنوں سے کہہ دو کہ جو لوگ خدا کے دنوں کی (جو اعمال کے بدلے کے لئے مقرر ہیں) توقع نہیں رکھتے ان سے درگزر کریں۔ تاکہ وہ ان لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلے دے
مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ ۖ وَمَنْ أَسَاءَ فَعَلَيْهَا ۖ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُمْ تُرْجَعُونَ ( 15 )
جو کوئی عمل نیک کرے گا تو اپنے لئے۔ اور جو برے کام کرے گا تو ان کا ضرر اسی کو ہوگا۔ پھر تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جاؤ گے
وَلَقَدْ آتَيْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ وَرَزَقْنَاهُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ ( 16 )
اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب (ہدایت) اور حکومت اور نبوت بخشی اور پاکیزہ چیزیں عطا فرمائیں اور اہل عالم پر فضیلت دی
وَآتَيْنَاهُم بَيِّنَاتٍ مِّنَ الْأَمْرِ ۖ فَمَا اخْتَلَفُوا إِلَّا مِن بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ ۚ إِنَّ رَبَّكَ يَقْضِي بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ( 17 )
اور ان کو دین کے بارے میں دلیلیں عطا کیں۔ تو انہوں نے جو اختلاف کیا تو علم آچکنے کے بعد آپس کی ضد سے کیا۔ بےشک تمہارا پروردگار قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا جن میں وہ اختلاف کرتے تھے فیصلہ کرے گا
ثُمَّ جَعَلْنَاكَ عَلَىٰ شَرِيعَةٍ مِّنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ( 18 )
پھر ہم نے تم کو دین کے کھلے رستے پر (قائم) کر دیا تو اسی (رستے) پر چلے چلو اور نادانوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلنا
إِنَّهُمْ لَن يُغْنُوا عَنكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ۚ وَإِنَّ الظَّالِمِينَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۖ وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُتَّقِينَ ( 19 )
یہ خدا کے سامنے تمہارے کسی کام نہیں آئیں گے۔ اور ظالم لوگ ایک دوسرے کے دوست ہوتے ہیں۔ اور خدا پرہیزگاروں کا دوست ہے
هَٰذَا بَصَائِرُ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ ( 20 )
یہ قرآن لوگوں کے لئے دانائی کی باتیں ہیں اور جو یقین رکھتے ہیں ان کے لئے ہدایت اور رحمت ہے
أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ اجْتَرَحُوا السَّيِّئَاتِ أَن نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَوَاءً مَّحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ ۚ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ ( 21 )
جو لوگ برے کام کرتے ہیں کیا وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کو ان لوگوں جیسا کردیں گے جو ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے اور ان کی زندگی اور موت یکساں ہوگی۔ یہ جو دعوے کرتے ہیں برے ہیں
وَخَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ وَلِتُجْزَىٰ كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ ( 22 )
اور خدا نے آسمانوں اور زمین کو حکمت سے پیدا کیا ہے اور تاکہ ہر شخص اپنے اعمال کا بدلہ پائے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا
أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلَىٰ عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلَىٰ سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ وَجَعَلَ عَلَىٰ بَصَرِهِ غِشَاوَةً فَمَن يَهْدِيهِ مِن بَعْدِ اللَّهِ ۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ ( 23 )
بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے اور باوجود جاننے بوجھنے کے (گمراہ ہو رہا ہے تو) خدا نے (بھی) اس کو گمراہ کردیا اور اس کے کانوں اور دل پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔ اب خدا کے سوا اس کو کون راہ پر لاسکتا ہے۔ بھلا تم کیوں نصیحت نہیں پکڑتے؟
وَقَالُوا مَا هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا يُهْلِكُنَا إِلَّا الدَّهْرُ ۚ وَمَا لَهُم بِذَٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ ۖ إِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ ( 24 )
اور کہتے ہیں کہ ہماری زندگی تو صرف دنیا ہی کی ہے کہ (یہیں) مرتے اور جیتے ہیں اور ہمیں تو زمانہ مار دیتا ہے۔ اور ان کو اس کا کچھ علم نہیں۔ صرف ظن سے کام لیتے ہیں
وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمْ إِلَّا أَن قَالُوا ائْتُوا بِآبَائِنَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ( 25 )
اور جب ان کے سامنے ہماری کھلی کھلی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو ان کی یہی حجت ہوتی ہے کہ اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو (زندہ کر) لاؤ
قُلِ اللَّهُ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يَجْمَعُكُمْ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا رَيْبَ فِيهِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ( 26 )
کہہ دو کہ خدا ہی تم کو جان بخشتا ہے پھر (وہی) تم کو موت دیتا ہے پھر تم کو قیامت کے روز جس (کے آنے) میں کچھ شک نہیں تم کو جمع کرے گا لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے
وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ يَخْسَرُ الْمُبْطِلُونَ ( 27 )
اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہت خدا ہی کی ہے۔ اور جس روز قیامت برپا ہوگی اس روز اہل باطل خسارے میں پڑ جائیں گے
وَتَرَىٰ كُلَّ أُمَّةٍ جَاثِيَةً ۚ كُلُّ أُمَّةٍ تُدْعَىٰ إِلَىٰ كِتَابِهَا الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ( 28 )
اور تم ہر ایک فرقے کو دیکھو گے کہ گھٹنوں کے بل بیٹھا ہوگا۔ اور ہر ایک جماعت اپنی کتاب (اعمال) کی طرف بلائی جائے گی۔ جو کچھ تم کرتے رہے ہو آج تم کو اس کا بدلہ دیا جائے گا
هَٰذَا كِتَابُنَا يَنطِقُ عَلَيْكُم بِالْحَقِّ ۚ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنسِخُ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ( 29 )
یہ ہماری کتاب تمہارے بارے میں سچ سچ بیان کردے گی۔ جو کچھ تم کیا کرتے تھے ہم لکھواتے جاتے ہیں
فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَيُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِي رَحْمَتِهِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِينُ ( 30 )
تو جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کا پروردگار انہیں رحمت (کے باغ) میں داخل کرے گا۔ یہی صریح کامیابی ہے
وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا أَفَلَمْ تَكُنْ آيَاتِي تُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَكُنتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِينَ ( 31 )
اور جنہوں نے کفر کیا۔ (ان سے کہا جائے گا کہ) بھلا ہماری آیتیں تم کو پڑھ کر سنائی نہیں جاتی تھیں؟ پھر تم نے تکبر کیا اور تم نافرمان لوگ تھے
وَإِذَا قِيلَ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ لَا رَيْبَ فِيهَا قُلْتُم مَّا نَدْرِي مَا السَّاعَةُ إِن نَّظُنُّ إِلَّا ظَنًّا وَمَا نَحْنُ بِمُسْتَيْقِنِينَ ( 32 )
اور جب کہا جاتا تھا کہ خدا کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کچھ شک نہیں تو تم کہتے تھے ہم نہیں جانتے کہ قیامت کیا ہے۔ ہم اس کو محض ظنی خیال کرتے ہیں اور ہمیں یقین نہیں آتا
وَبَدَا لَهُمْ سَيِّئَاتُ مَا عَمِلُوا وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ ( 33 )
اور ان کے اعمال کی برائیاں ان پر ظاہر ہوجائیں گی اور جس (عذاب) کی وہ ہنسی اُڑاتے تھے وہ ان کو آگھیرے گا
وَقِيلَ الْيَوْمَ نَنسَاكُمْ كَمَا نَسِيتُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَٰذَا وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُم مِّن نَّاصِرِينَ ( 34 )
اور کہا جائے گا کہ جس طرح تم نے اس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا۔ اسی طرح آج ہم تمہیں بھلا دیں گے اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے اور کوئی تمہارا مددگار نہیں
ذَٰلِكُم بِأَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا وَغَرَّتْكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا ۚ فَالْيَوْمَ لَا يُخْرَجُونَ مِنْهَا وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُونَ ( 35 )
یہ اس لئے کہ تم نے خدا کی آیتوں کو مخول بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے تم کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ سو آج یہ لوگ نہ دوزخ سے نکالے جائیں گے اور نہ ان کی توبہ قبول کی جائے گی
کتب
- آئينہ ایامِ تاریخیہ کتاب حضرت رسول کریم صلى اللہ علیہ وسلم کی وفات سے لے کرنواسئہ رسول سیدنا حسین بن على رضی اللہ عنہ کی شہادت 61ھ تک کے اہم ترین عرصہ پر مشتمل ہے- اس کتاب میں مندرجہ ذیل اہم موضوعات پر بحث کی گئی ہے: سقیفہ بنی ساعدہ, قصہ شورى, حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر اعتراضات , شہادت عثمان رضی اللہ عنہ, خلافت على رضی اللہ عنہ, معرکہ جمل, معرکہ صفین, معرکہ نہروان, شہادت على المرتضی , خلافت حسن بن على بن ابی طالب , عام الجماعة, خلافت معاویہ بن ابی سفیان , خلافت یزید بن معاویہ , شہادت حسین بن على , صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عدالت پر پاکدامنی, صحابہ کرام کے متعلق پھیلائی گئی بدگمانیاں اور انکے جوابات, امامت على المرتضی کی اوّلیت کے دلائل اورانکے جوابات وغیرہ- عدالت صحابہ پر لاجواب تحقیقی اور علمی کتاب ہے ضرور مطالعہ کریں.
تاليف : عثمان الخميس
نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی
ترجمہ کرنے والا : ابو مسعود عبد الجبار سلفی
اصدارات : www.aqeedeh.com فارسی زبان میں
- اسلام میں خواتین کے حقوق ... جدید یا فرسودہ؟موجودہ دورمیں ذرائع ابلاغ کی طرف سے طلاق ،کثرت ازدواج ،خواتین کی سیاسی اورسماجی سرگرمیوں میں شرکت اور بے حجابی وغیرہ موضوعات پر کافی بحثیں جاری ہیں اوريہ اتہام لگایا جارہا ہے کہ اسلام نے عورت کوپورا حق نہیں دیا،لیکن اگرمغربی معاشرہ کا بغورتجزیہ کیا جائے تویہ حقیقت بے نقاب ہوجائیگی کہ مغربي عورت سب کچھ حقوق پانے کے باوجود خاندانی زندگی،ذھنی سکون ووقاراورنسوانیت کوکھوچکی ہے.دوسری اسلام کا جائزہ لیں توآپ کوعلم ہو گا کہ اسلا م نے آج سے چودہ سوبرس پہلے ہی عورت کوبے شمارحقوق عطا کردئے تھے. یہ وہ وقت تھا جب دنیا کی دیگرتہذیبیں یہ سوچ رہی تھیں کہ عورت کوانسان بھی تسلیم کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟. کتاب مذکور میں انھیں چیزوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے. نہایت ہی مفید کتاب ہے ضرورمطالعہ کریں.
تاليف : ذاكر نايك
نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی
- صفات المنافقین-
تاليف : علامہ ابن قیم الجوزی
اصدارات : وزارت برائے اسلامی امور واوقاف ودعوت وارشاد ریاض
- أسوہ حسنہ: اختصار زاد المعاد في هدي خير العبادأسوہ حسنه :بے شک رسول صلى اللہ علیہ وسلم کا اسوہ اس دین کی عملی تطبیق تھی جسکے اندر وہ تمام امتیازی خصوصیات جمع تھیں جسنے اس دین کو اپنانا اور اس پرعمل کرنا آسان بنادیا’کیونکہ آپ کا طریقہ زندگی کے تعبدی,عملی, اخلاقی,روحانی اورمادی تمام گوشوں پرمحیط تھا. اور زیرمطالعہ کتاب دراصل عربی زبان میں سیرت نبوی پرلکھی جانے والی سب سے بہترین کتاب "زاد المعاد فی ھدی خیرالعباد لابن القیم" کی اختصار ہے جسکو أبو زید مصری رحمة الله عليه نے سَر انجام دیا ہے تاکہ تمام لوگوں کیلئے اس سے استفادہ حاصل کرنا آسان ہوسکے اوراسے اردوداں طبقہ کی آسانی کیلئے شیخ عبد الرزاق ملیح آبادی رحمة الله عليه نے اردو قالب میں ڈھالنے کی عمده کوشش کی ہے.نہایت ہی مفید کتاب ہے ضرورمطالعہ کریں.
نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی
- اخلاص کا نور اور اخروی عمل سے دنیا طلبی کی تاریکیاں کتاب وسنت کی روشنی میںاخلاص کے نور اور آخرت کے عمل سے دنیا طلبی کی تاریکیوں کے سلسلہ میں یہ ایک مختصر رسالہ ہے, جس میں مولف حفظہ اللہ نے اخلاص کا مفہوم, اسکی اہمیت اور اچھی نیت کا مقام بیان کیا ہے, اور نیک عمل سے دنیا طلبی کی خطرناکی, دنیا کی خاطر عمل کی قسمیں, ریاکاری کی خطرناکی, اسکے انواع واقسام ,عمل پراسکے اثرات اور ریاکاری کے اسباب ومحرکات نیز حصول اخلاص کے طریقے ذکر کیا ہے. نہایت ہی مفید کتاب ہے ضرور استفادہ اٹھائیں.
تاليف : سعيد بن علي بن وهف قحطاني
نظر ثانی کرنے والا : ابو المکرم عبد الجلیل - شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی
اصدارات : دفتر تعاون برائے دعوت وتوعية الجاليات ربوہ، رياض












