اردو
سورہ دخان - آیات کی تعداد 59
إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ ۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ ( 3 )
کہ ہم نے اس کو مبارک رات میں نازل فرمایا ہم تو رستہ دکھانے والے ہیں
أَمْرًا مِّنْ عِندِنَا ۚ إِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ ( 5 )
(یعنی) ہمارے ہاں سے حکم ہو کر۔ بےشک ہم ہی (پیغمبر کو) بھیجتے ہیں
رَحْمَةً مِّن رَّبِّكَ ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ( 6 )
(یہ) تمہارے پروردگار کی رحمت ہے۔ وہ تو سننے والا جاننے والا ہے
رَبِّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ إِن كُنتُم مُّوقِنِينَ ( 7 )
آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کا مالک۔ بشرطیکہ تم لوگ یقین کرنے والے ہو
لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ يُحْيِي وَيُمِيتُ ۖ رَبُّكُمْ وَرَبُّ آبَائِكُمُ الْأَوَّلِينَ ( 8 )
اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ (وہی) جِلاتا ہے اور (وہی) مارتا ہے۔ وہی تمہارا اور تمہارے باپ دادا کا پروردگار ہے
فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ ( 10 )
تو اس دن کا انتظار کرو کہ آسمان سے صریح دھواں نکلے گا
رَّبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ ( 12 )
اے پروردگار ہم سے اس عذاب کو دور کر ہم ایمان لاتے ہیں
أَنَّىٰ لَهُمُ الذِّكْرَىٰ وَقَدْ جَاءَهُمْ رَسُولٌ مُّبِينٌ ( 13 )
(اس وقت) ان کو نصیحت کہاں مفید ہوگی جب کہ ان کے پاس پیغمبر آچکے جو کھول کھول کر بیان کر دیتے ہیں
ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَقَالُوا مُعَلَّمٌ مَّجْنُونٌ ( 14 )
پھر انہوں نے ان سے منہ پھیر لیا اور کہنے لگے (یہ تو) پڑھایا ہوا (اور) دیوانہ ہے
إِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيلًا ۚ إِنَّكُمْ عَائِدُونَ ( 15 )
ہم تو تھوڑے دنوں عذاب ٹال دیتے ہیں (مگر) تم پھر کفر کرنے لگتے ہو
يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَىٰ إِنَّا مُنتَقِمُونَ ( 16 )
جس دن ہم بڑی سخت پکڑ پکڑیں گے تو بےشک انتقام لے کر چھوڑیں گے
وَلَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَجَاءَهُمْ رَسُولٌ كَرِيمٌ ( 17 )
اور ان سے پہلے ہم نے قوم فرعون کی آزمائش کی اور ان کے پاس ایک عالی قدر پیغمبر آئے
أَنْ أَدُّوا إِلَيَّ عِبَادَ اللَّهِ ۖ إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ ( 18 )
(جنہوں نے) یہ (کہا) کہ خدا کے بندوں (یعنی بنی اسرائیل) کو میرے حوالے کردو میں تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں
وَأَن لَّا تَعْلُوا عَلَى اللَّهِ ۖ إِنِّي آتِيكُم بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ ( 19 )
اور خدا کے سامنے سرکشی نہ کرو۔ میں تمہارے پاس کھلی دلیل لے کر آیا ہوں
وَإِنِّي عُذْتُ بِرَبِّي وَرَبِّكُمْ أَن تَرْجُمُونِ ( 20 )
اور اس (بات) سے کہ تم مجھے سنگسار کرو اپنے اور تمہارے پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں
وَإِن لَّمْ تُؤْمِنُوا لِي فَاعْتَزِلُونِ ( 21 )
اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ ہو جاؤ
فَدَعَا رَبَّهُ أَنَّ هَٰؤُلَاءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُونَ ( 22 )
تب موسیٰ نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ یہ نافرمان لوگ ہیں
فَأَسْرِ بِعِبَادِي لَيْلًا إِنَّكُم مُّتَّبَعُونَ ( 23 )
(خدا نے فرمایا کہ) میرے بندوں کو راتوں رات لے کر چلے جاؤ اور (فرعونی) ضرور تمہارا تعاقب کریں گے
وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا ۖ إِنَّهُمْ جُندٌ مُّغْرَقُونَ ( 24 )
اور دریا سے (کہ) خشک (ہو رہا ہوگا) پار ہو جاؤ (تمہارے بعد) ان کا تمام لشکر ڈبو دیا جائے گا
كَذَٰلِكَ ۖ وَأَوْرَثْنَاهَا قَوْمًا آخَرِينَ ( 28 )
اسی طرح (ہوا) اور ہم نے دوسرے لوگوں کو ان چیزوں کا مالک بنا دیا
فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ وَمَا كَانُوا مُنظَرِينَ ( 29 )
پھر ان پر نہ تو آسمان کو اور زمین کو رونا آیا اور نہ ان کو مہلت ہی دی گئی
وَلَقَدْ نَجَّيْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِينِ ( 30 )
اور ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب سے نجات دی
مِن فِرْعَوْنَ ۚ إِنَّهُ كَانَ عَالِيًا مِّنَ الْمُسْرِفِينَ ( 31 )
(یعنی) فرعون سے۔ بےشک وہ سرکش (اور) حد سے نکلا ہوا تھا
وَلَقَدِ اخْتَرْنَاهُمْ عَلَىٰ عِلْمٍ عَلَى الْعَالَمِينَ ( 32 )
اور ہم نے بنی اسرائیل کو اہل عالم سے دانستہ منتخب کیا تھا
وَآتَيْنَاهُم مِّنَ الْآيَاتِ مَا فِيهِ بَلَاءٌ مُّبِينٌ ( 33 )
اور ان کو ایسی نشانیاں دی تھیں جن میں صریح آزمائش تھی
إِنْ هِيَ إِلَّا مَوْتَتُنَا الْأُولَىٰ وَمَا نَحْنُ بِمُنشَرِينَ ( 35 )
کہ ہمیں صرف پہلی دفعہ (یعنی ایک بار) مرنا ہے اور (پھر) اُٹھنا نہیں
فَأْتُوا بِآبَائِنَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ( 36 )
پس اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو (زندہ کر) لاؤ
أَهُمْ خَيْرٌ أَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ أَهْلَكْنَاهُمْ ۖ إِنَّهُمْ كَانُوا مُجْرِمِينَ ( 37 )
بھلا یہ اچھے ہیں یا تُبّع کی قوم اور وہ لوگ جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں۔ ہم نے ان (سب) کو ہلاک کردیا۔ بےشک وہ گنہگار تھے
وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لَاعِبِينَ ( 38 )
اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان میں ہے ان کو کھیلتے ہوئے نہیں بنایا
مَا خَلَقْنَاهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ( 39 )
ان کو ہم نے تدبیر سے پیدا کیا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيقَاتُهُمْ أَجْمَعِينَ ( 40 )
کچھ شک نہیں کہ فیصلے کا دن ان سب (کے اُٹھنے) کا وقت ہے
يَوْمَ لَا يُغْنِي مَوْلًى عَن مَّوْلًى شَيْئًا وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ ( 41 )
جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ ان کو مدد ملے گی
إِلَّا مَن رَّحِمَ اللَّهُ ۚ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ ( 42 )
مگر جس پر خدا مہربانی کرے۔ وہ تو غالب اور مہربان ہے
خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إِلَىٰ سَوَاءِ الْجَحِيمِ ( 47 )
(حکم دیا جائے گا کہ) اس کو پکڑ لو اور کھینچتے ہوئے دوزخ کے بیچوں بیچ لے جاؤ
ثُمَّ صُبُّوا فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ ( 48 )
پھر اس کے سر پر کھولتا ہوا پانی انڈیل دو (کہ عذاب پر) عذاب (ہو)
يَلْبَسُونَ مِن سُندُسٍ وَإِسْتَبْرَقٍ مُّتَقَابِلِينَ ( 53 )
حریر کا باریک اور دبیز لباس پہن کر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوں گے
كَذَٰلِكَ وَزَوَّجْنَاهُم بِحُورٍ عِينٍ ( 54 )
اس طرح (کا حال ہوگا) اور ہم بڑی بڑی آنکھوں والی سفید رنگ کی عورتوں سے ان کے جوڑے لگائیں گے
يَدْعُونَ فِيهَا بِكُلِّ فَاكِهَةٍ آمِنِينَ ( 55 )
وہاں خاطر جمع سے ہر قسم کے میوے منگوائیں گے (اور کھائیں گے)
لَا يَذُوقُونَ فِيهَا الْمَوْتَ إِلَّا الْمَوْتَةَ الْأُولَىٰ ۖ وَوَقَاهُمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ ( 56 )
(اور) پہلی دفعہ کے مرنے کے سوا (کہ مرچکے تھے) موت کا مزہ نہیں چکھیں گے۔ اور خدا ان کو دوزخ کے عذاب سے بچا لے گا
فَضْلًا مِّن رَّبِّكَ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ( 57 )
یہ تمہارے پروردگار کا فضل ہے۔ یہی تو بڑی کامیابی ہے
کتب
- موت کا منظر-
تاليف : خالد بن عبد الرحمن الشايع - سلطان بن فهد الراشد
نظر ثانی کرنے والا : مشتاق احمد كريمي
ترجمہ کرنے والا : ظهير احمد عبد الاحد
اصدارات : دفتر تعاون برائے دعوت وتوعية الجاليات ربوہ، رياض
- درود شريف کے مسائلیوں تو دین اسلام میں بدعات کا اضافہ اب روز مرہ کا معمول بن چکا ہے لیکن اذکاروظائف میں خصوصا اتنی زیادہ خود ساختہ اورغیرمسنون چیزیں شامل کردی گئی ہیں کہ مسنون ادعیہ واذکار طاق نسیاں بن کررہ گئے ہیں- دیگرخود ساختہ اورغیرمسنون اذکارووظائف کی طرح درودوسلام میں بھی بہت سے خود ساختہ اورغیرمسنون درودوسلام رائج ہوچکے ہیں- مثلا درود تاج’ درود لکھی’ درود مقدس’ درود اکبر’ درود ماہی’ درود تنجینا وغیرہ- ان میں سے ہردرود کے پڑھنے کا طریقہ اوروقت الگ الگ بتایا گیا ہے اورانکے فوائد (جوکہ زیادہ تردنیاوی ہیں) کا بھی الگ الگ تذکرہ کتب میں لکھا گیا ہے- مذکورہ درودوں میں سے کوئی ایک درود بھی ایسا نہیں جس کے الفاظ رسول اکرم صلى اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہوں- لہذا انہیں پڑھنے کا طریقہ اوران سے حاصل ہونے والے فوائد از خود باطل ٹھرتے ہیں-
تاليف : محمد إقبال كيلاني
نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی
اصدارات : مكتبة دار السلام
- اسلام پر چاليس(40) اعتراضات کے عقلی و نقلی جواباسلام دین برحق ہے اور اللہ تعالی کے حکم کے مطابق یہ پوری دنیا پر پھیلے گا اگرچہ اس کے نہ ماننے والے جتنی مرضی سازشیں کرلیں-ہر دور میں اسلام کے بارے میں شکوک وشبہات پیدا کرنے اور اس کی تعلیمات سے لوگوں کو دور رکھنے کے لیے سازشیں ہوتی رہی ہیں-اسلام پر اعتراضات کے نام سے یہ کتاب ڈاکٹر ذاکر نائیک کا تقابل ا دیان کے موضوع پر ایک خطاب ہے جس میں ہر مذہب کے پیرو کار شریک تھے اور ان کے سامنے اسلام کی حقانیت کو پیش کرتے ہوئےاسلام کے بارے میں موجود شکوک وشبہات کا مدلل جواب بھی دیا ہے جس کا بعد میں اردو میں ترجمہ کر کے کتابی شکل دی گئی ہے-اس کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے –پہلے حصے میں اسلام کے بارے میں غیر مسلموں کے عام اعتراضات کو پیش کرکے ا ن کا جواب دیا گیا ہے-چوری ڈاکہ پر اسلام کے کنٹرول کرنے کا طریقہ،چوری کی سزا کا عملی نفاذ،اور مرد وعورتوں کے لیے حجاب کا حکم جیسے مسائل پر گفتگو کی ہے-اس کے علاوہ یہ کہ کیا اسلام تلوار کے زور پر پھیلا ہے،کیا مسلمان کعبہ کو پوجتے ہیں؟مسلمان بنیاد پرست اور دہشت گرد ہیں،ایک سے زیادہ بیویوں کی اجازت کیوں؟ایک سے زیادہ شوہروں کی ممانعت کیوں؟مرد وعورت کی گواہی میں مساوات کیوں نہیں؟شراب کی ممانعت میں کیا حکمت ہے اور سور کا گوشت کیوں حرام ہے –اس کے علاوہ اور بہت سےسوالات کا جواب دیا گیا ہے-دوسرے حصے میں ان لوگوں کے مخصوص سوالات کا جواب ہے جو قدرے کچھ اسلام سے واقفیت رکھتے ہیں-مثلا کہ کیا موجودہ قرآن اصلی قرآن ہی ہے؟اللہ ایک ہیں لیکن ان کے لیے جمع کا صیغہ کیوں؟اور اسی طرح کیا تنسیخ آیات غلطی کی اصلاح ہوتی ہے؟کیا قرآن اللہ کا کلام ہے؟اور کیا قرآن کریم بائبل کی نقل ہے؟اور اسی طرح مسیح علیہ السلام کی الوہیت پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے-
تاليف : ذاكر نايك
نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی
اصدارات : مكتبة دار السلام
- صحیح تاریخ ولادت مصطفى صلى اللہ علیہ وسلم جشن میلاد ؛ يوم وفات پر؟ ایک تحقیق ایک جائزہ1-كياعید میلاد پرکی جانے والی خوشیاں ولادت پرہیں یا وفات پر؟ 2-مروجہ میلادالنبی صلى اللہ علیہ وسلم کی شرعی حیثیت کتاب وسنت كی روشنی میں،صحابہ رضی اللہ عنہم تابعین وتبع تابعین اورائمہ اربعہ کی نظر میں. 3-قائلین عید میلاد النبی صلى اللہ علیہ وسلم کے دلائل اورانکا جائزہ ان سب کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کیجئےزیرنظر کتاب کامطالعہ کرکے جومیلادالنبی کے موضوع پرنہایت ہی جامع ومانع سمجھی جاتی ہے.ضرورپڑھیں.
تاليف : أبو عدنان محمد منير قمر
نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی
- حقیقت توحیدحقیقتِ توحید : اس اہم کتاب کے اندراس توحید کی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے جس کے ساتھ تمام انبیاء ورسل مبعوث کیے گئے, جو بندوں پر اللہ تعالی کا سب سے پہلا حق ہے اور جس کے بغیر آدمی کا کوئی بھی عمل مقبول نہیں. یہ توحید دراصل انسانی فطرت میں جاگزیں ہے لیکن خارجی عوامل کی بناپر اس کے اندر انحراف پیدا ہوجاتاہے. اس فطرت سے انحراف یعنی شرک کا آغاز کب اور کیسے ہوا؟ اس کے اسباب ومحرکات کیاھیں؟... شرک کے انتشار کا ایک اہم سبب وہ شکوک وشبہات بھی ہیں جن کی بنا پر بہت سے لوگ گمراہی کا شکراہ ہوگئے اور جنہیں وہ اپنے مشرکانہ اعمال کا وجہ جواز سمجھتے ہیں. زیرنظر کتاب میں ایسے ہی بارہ شبہات کی نقاب کشائی کرتے ہوئےان کا مکمل جواب دیا گیاہے, کتاب کے اخیر میں شرک کی مذمت اور دینا وآخرت میں اس کے بھیانک انجام کا تذکرہ ہے.
تاليف : صالح بن فوزان الفوزان
نظر ثانی کرنے والا : عطاء الرحمن ضياء الله
ترجمہ کرنے والا : فضل الهي ظهير - سمير ابراهيم
اصدارات : دفتر تعاون برائے دعوت وتوعية الجاليات ربوہ، رياض












